منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیسپاہ کا انتقامی حملہ، اسرائیل کے 150 اہداف نشانہ

سپاہ کا انتقامی حملہ، اسرائیل کے 150 اہداف نشانہ
س

دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران — ایک اعلیٰ ایرانی عسکری عہدیدار نے کہا ہے کہ حالیہ جوابی کارروائی میں اسرائیلی حکومت کے کم از کم 150 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کئی انتہائی اسٹریٹیجک فوجی اڈے بھی شامل ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے کمانڈر انچیف کے سینیئر مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آپریشن سچا وعدہ III” سپاہ کی ایرو اسپیس ڈویژن نے کامیابی سے مکمل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اہداف کئی مراحل میں کامیابی کے ساتھ نشانہ بنائے گئے۔

جنرل وحیدی، جو ابراہیم رئیسی دورِ حکومت میں وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ جن اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں شمالی وسطی علاقوں میں واقع نواتیم ایئربیس اور جنوبی ترین علاقوں میں موجود اوودا ایئربیس شامل تھے۔

ان کے مطابق، ’’یہ اڈے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور الیکٹرانک وار فیئر مراکز پر مشتمل تھے، اور یہ وہی مقامات تھے جہاں سے ایران پر جارحیت کا آغاز کیا گیا تھا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ایک اور اہم ہدف تل ابیب کے نزدیک واقع تل نوف ایئربیس تھا۔

سپاہ کے کمانڈر کے مطابق، صہیونی حکومت کی وزارتِ دفاع اور اس کے فوجی صنعتی مراکز کو بھی اسلامی جمہوریہ کی اس جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔

’یہ ایک بڑا جھٹکا تھا، جو دوبارہ بھی دیا جا سکتا ہے‘

جنرل وحیدی کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن صہیونی حکومت کے لیے ایک ’’بڑا جھٹکا‘‘ ثابت ہوا ہے، اور اس میں ’’بھاری طاقت کا مظاہرہ‘‘ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کارروائیاں دوبارہ بھی کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ جوابی کارروائی اس مقصد سے کی گئی کہ انہیں احساس دلایا جائے کہ انہوں نے سنگین غلطی اور بڑی غلط فہمی کا شکار ہوکر قدم اٹھایا ہے۔

یاد رہے کہ صہیونی افواج نے ایران کے مختلف شہروں بشمول دارالحکومت تہران پر حملے کیے، جن میں انتہائی درستگی سے کیے گئے کئی قاتلانہ حملے بھی شامل تھے۔ ان حملوں میں سپاہ پاسداران کے سابق سربراہ میجر جنرل حسین سلامی شہید ہوئے۔

دیگر شہداء میں ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری، سپاہ کی ایرو اسپیس ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ، اور خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی رشید شامل ہیں۔

ان حملوں میں ممتاز ایٹمی سائنسدانوں محمد مہدی طہرانچی، فریدون عباسی، اور ڈاکٹر عبد الحمید منوچر سمیت 70 سے زائد عام شہری بھی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

جنرل وحیدی نے کہا کہ ان حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت کا خیال تھا کہ اس نے ایران کے کئی عسکری ڈھانچوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ کو جوابی کارروائی سے عاجز کر دیا ہے۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ اسرائیل کی ’’بڑی غلط فہمی‘‘ تھی، اور خبردار کیا، ’’انہیں اب اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا، اور یہ محض آغاز ہے۔‘‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین