بدھ, فروری 11, 2026
ہوممضامینکوئٹہ سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر واقع ’دور افتادہ علاقہ‘

کوئٹہ سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر واقع ’دور افتادہ علاقہ‘
ک

محمد اکبر نوتزئی

معاشی مواقع کی شدید کمی کے باعث سنزالہ کے درجنوں نوجوان ملک بھر میں پھیلے ہوئے مشہور ’کوئٹہ چائے ہوٹلوں‘ میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔

کوئٹہ سے تقریباً تین گھنٹے شمال کی جانب سنزالہ پاس واقع ہے، جو حرمزئی تحصیل میں موجود کئی دیہات کو افغانستان کی سرحد سے جوڑتا ہے۔

زیادہ تر گاڑیاں اس علاقے تک نہیں پہنچ سکتیں، کیونکہ پہاڑی درّے سے گزرتا ہوا یہ گرد آلود راستہ کبھی پختہ نہیں کیا گیا۔ میں موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ کر وہاں پہنچتا ہوں، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ اختیار کیا جائے تو پنکچر ہونا یقینی ہے۔

ہم جس راستے سے گزرتے ہیں، مقامی لوگوں کے مطابق وہ محض اس لیے موجود ہے کہ اسمگلرز اسی راستے کو افغانستان سے بلوچستان میں اپنا ’مال‘ لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم قرونِ وسطیٰ میں لوٹ آئے ہوں: یہاں بجلی، صحت کی سہولیات، سڑکوں کا نظام یا کوئی اور بنیادی سہولت موجود نہیں۔ سرد موسم اس حقیقت کو اور نمایاں کر دیتا ہے کہ قدرتی گیس بھی بلوچستان کے کئی علاقوں کی طرح یہاں کے لیے اب تک ایک خواب ہی ہے۔

ایک وقت تھا جب پشین کو کوئٹہ سے چلایا جاتا تھا، اور اسے جنوری 1975 میں ضلع کا درجہ دیا گیا۔ تاہم انتظامی تبدیلی بھی اس دشوار گزار علاقے میں بسنے والوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہ لا سکی۔

دورے کے دوران پوری بستی میں ہمیں صرف دو گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو زچگی کے لیے اسپتال لے جانے کے کام آتی ہیں۔ دیگر بیشتر رہائشی، ہماری طرح، موٹر سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں، خواہ وہ سرحد کی سمت دیگر دیہات جانا ہو یا جنوب کی جانب کوئٹہ کا رخ کرنا ہو۔

ایک متروک اسکول کی عمارت ہماری توجہ کھینچتی ہے — اس میں نہ دروازے ہیں نہ کھڑکیاں، اور اندر مویشیوں کے لیے خشک گھاس بھری ہوئی ہے۔ جیسے ہی ہم اس ویران اسکول کے قریب پہنچتے ہیں، قریبی گاؤں سے ایک شخص، جو بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ مقامی بااثر فرد ہے، ہماری طرف آتا ہے۔

وہ پہلے ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اسکول کے قریب نہ جائیں، کیونکہ وہاں ایک خطرناک کتا موجود ہے۔ جب یہ بات ہمیں باز نہ رکھ سکی تو وہ زیادہ واضح انداز میں کہتا ہے: “آپ اسکول کی تصاویر نہیں لے سکتے،” وہ پشتو میں کہتا ہے۔

مقامی ایک اور معزز، دارو خان، کے نام سے منسوب انزرگئی گاؤں کا یہ اسکول سنزالہ پاس کے ان تین اسکولوں میں شامل ہے جو تقریباً ایک دہائی قبل تعمیر مکمل ہونے کے باوجود کبھی نہیں کھل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے میں ملنے والے بیشتر بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

معاشی مواقع کی کمی کے باعث سنزالہ کے درجنوں نوجوان ملک بھر میں پھیلے ہوئے ’کوئٹہ چائے ہوٹلوں‘ میں کام کرتے پائے جاتے ہیں۔

دوپہر کے کھانے کے وقت ہمارے پشتون اچکزئی میزبان ہمارا خیرمقدم کرتے ہیں۔ کھانے کے بعد میں ان سے سوال کرتا ہوں: “کیا آپ کے بچے اسکول جاتے ہیں؟”

ایک معمر کسان اپنے بھتیجوں کے ساتھ ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے: “ہمارے گاؤں میں اسکول کہاں ہیں؟”

اس کسان، ستار، کے اپنے پانچ بچے ہیں۔ امین کے چھ بچے ہیں، جب کہ اس کے چھوٹے بھائی سعیدو کے تین، اور بڑے بھائی فیض اللہ کے نو بچے ہیں۔

وہ خود نو بہن بھائی ہیں۔ میں حساب لگاتا ہوں: اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی مشترکہ خاندان میں تقریباً 30 افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں، اسکول سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ درّے میں سرحد تک پھیلے ہوئے کئی اور دیہات بھی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر سیکڑوں اسکول جانے کی عمر کے بچے نظرانداز ہو رہے ہیں۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ضلع کے مقامی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) فیض اللہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ علاقے میں صرف دو اسکول اساتذہ کی عدم دستیابی اور کمیونٹی تنازعات کے باعث بند ہیں، جبکہ تین اسکول فعال ہیں۔

تاہم انہوں نے کوئٹہ سے محض 40 کلومیٹر سے کچھ زائد فاصلے پر واقع اس علاقے کو ضلع کا ’دور افتادہ علاقہ‘ قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ مارچ 2026 تک تمام اسکول دوبارہ کھول دیے جائیں گے، جب اساتذہ کے لیے بس سروس فراہم کی جائے گی جو ذاتی طور پر وہاں جانے کے قابل نہیں۔

ستار افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، “اراکینِ صوبائی اسمبلی ہمیں صرف انتخابات کے وقت یاد رکھتے ہیں، اور ہمیں ووٹ ڈالنے کے لیے موٹر سائیکلوں پر پشین شہر تک جانا پڑتا ہے۔” ان کے مطابق انتخابات کے فوراً بعد “وہ ہمیں اور ہمارے مسائل کو بالکل بھول جاتے ہیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین