بدھ, فروری 11, 2026
ہوممضامیناسرائیل غزہ کی تباہی سے کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے

اسرائیل غزہ کی تباہی سے کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے
ا

تحریر: ویسام بحرانی

فلسطینی مزاحمتی تحریک نے بتایا ہے کہ 10 اکتوبر سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کم از کم 738 دستاویزی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، اور حماس کا کہنا ہے کہ یہ جاری خلاف ورزیاں دوسرے مرحلے کی پیش رفت میں رکاوٹ ہیں۔

دوسرے مرحلے کی سب سے اہم شق قابض علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ہے، جو نام نہاد "یلو لائن” کے پیچھے واقع ہیں، اور ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کو غزہ میں داخل ہونے کی منظوری ہے۔

آج غزہ تقریباً 6 کروڑ 80 لاکھ ٹن ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے، جو اتنا زیادہ ہے کہ بہت سے شہر اسے ایک دہائی میں بھی صاف نہیں کر سکتے۔ اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ جائزوں کے مطابق 1,23,000 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ مزید 75,000 کو نقصان پہنچا ہے، جو کل ڈھانچوں کا تقریباً 81 فیصد بنتا ہے۔

ملبے کا وزن تقریباً 186 ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگز کے برابر ہے۔ اگر اسے مین ہٹن میں بکھیر دیا جائے تو فی مربع فٹ اوسطاً 200 پاؤنڈ سے زیادہ وزن بنتا ہے۔

تعمیر نو شروع ہونے سے پہلے ہی، غزہ کو کم از کم پانچ سال ملبہ ہٹانے میں درکار ہوں گے—اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ یہ مدت سات سال تک پہنچ جائے۔

ملبے کے اس وسیع میدان میں بغیر پھٹے ہوئے بم، راکٹ اور آرٹلری شیل بھی موجود ہیں، اور فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق تقریباً 10,000 لاشیں اب بھی انہی ڈھیروں کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔

سرحدی گذرگاہوں پر اسرائیلی حکومت کا کنٹرول اس بات کا باعث بنتا ہے کہ بڑے پیمانے پر صفائی اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتی جب تک وہ بھاری مشینری کے داخلے کی منظوری نہ دے دے، جو ملبہ اٹھانے اور باقی ماندہ دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔

غزہ کے پاس اس وقت صرف چند فعال ایکسکیویٹرز، فورک لفٹس، ڈمپ ٹرکس اور محض ایک ہی فعال کرشر موجود ہے، جو ملبے کو ری سائیکل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ نے سیکڑوں اضافی مشینوں کے داخلے کی منظوری طلب کی ہے، لیکن تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ صرف صفائی کے اخراجات ہی ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے اندازے پر ہیں، جبکہ مکمل تعمیر نو کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق غزہ کی پٹی میں موجود 761 بے دخلی کیمپوں میں رہنے والے تقریباً 8,50,000 افراد اس ہفتے سیلاب کے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

جنگ بندی کی روزانہ اسرائیلی خلاف ورزیاں بظاہر اس دوسرے اہم مرحلے کو مؤخر کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں، جو اسرائیل کے اسٹریٹجک مفاد اور دو ملین سے زیادہ انسانوں کی اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

غزہ کے فلسطینیوں کے نزدیک تباہی کی یہ وسعت اور تعمیر نو کے آلات کے داخلے میں رکاوٹیں اس منظم نظام کا حصہ ہیں، جو روزمرہ زندگی کو ہنگامی حالت اور محرومی کے درمیان معلق رکھتا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کے تباہ ہونے کے باعث خاندان اپنے محلوں میں واپس نہیں جا سکتے، اور ضروری خدمات بہت آہستہ بحال ہوتی ہیں۔ روزمرہ زندگی ایک فعال معیشت یا مستحکم سماجی اداروں کی تعمیر کے بجائے محض بقا کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ پوری نسلوں کو طویل تعلیمی تعطل، آمدنی کے زیاں اور کمیونٹی ڈھانچوں کے بکھرنے کا سامنا ہے۔

متعدد صہیونی وزراء کے ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے بیانات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو ’’ریویرا‘‘ بنانے کے تبصرے نے فلسطینیوں کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

فلسطینی ان نسلی تطہیر پر مبنی بیانات کو آبادی کو بے دخل کرنے کا اشارہ سمجھتے ہیں۔ یہ تجاویز انہیں 1948 کی یاد دلاتی ہیں اور انہیں ایک نئی نکبہ کی انجینئرنگ کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تباہی کی یہ وسعت اور تعمیر نو میں رکاوٹیں فلسطینیوں کے نزدیک اپنی سرزمین کو ناقابلِ رہائش بنا کر بے دخل کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔

دوسرے مرحلے کی تبدیلی میں تاخیر کے یہ اسرائیلی حربے خود صہیونی ریاست کے لیے بھی خطرات رکھتے ہیں۔ تباہ شدہ غزہ شدید تلخی کو جنم دیتا ہے اور مسلح مزاحمت کے دوبارہ بھڑکنے کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ یہ اسرائیلی انتظامیہ کی جاری نسل کشی پر عالمی سطح پر مذمت اور اس کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کو بھی شدید کرتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین