تحریر: جیک کوئین
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی پر ایک "گمراہ کن طریقے سے ایڈیٹ کی گئی” دستاویزی فلم نشر کرنے کے الزام میں کم از کم ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم یہ معاملہ اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ آیا فلوریڈا میں کسی شخص نے آن لائن یہ پروگرام دیکھا اور خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کیا یا نہیں۔
اگر یہ ابتدائی رکاوٹ عبور ہو جائے، تو ایک امریکی عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا برطانیہ کا سب سے بڑا نشریاتی ادارہ واقعی ناظرین کو جان بوجھ کر گمراہ کرنے کا مرتکب ہوا۔
ٹرمپ بی بی سی پر مقدمہ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
ٹرمپ اور ان کے وکلا نے بی بی سی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے 6 جنوری 2021 کی ٹرمپ کی تقریر کے دو حصے اس انداز سے جوڑ کر پیش کیے کہ یوں دکھائی دے جیسے وہ اپنے حامیوں کو امریکی کانگریس پر حملے کی ترغیب دے رہے ہوں۔
روئٹرز کے زیرِ نظر ایک خط میں ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے بی بی سی کو خبردار کیا ہے کہ وہ 2024 کے اکتوبر میں نشر ہونے والے پروگرام "پینوراما” کی متعلقہ قسط کو واپس لے، ورنہ اس کے خلاف کم از کم ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے فسادات بھڑکانے کے الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے پیر کے روز فاکس نیوز کی میزبان لورا اِنگرام سے گفتگو میں کہا کہ ان پر مقدمہ کرنے کی ’’ذمہ داری‘‘ عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول، انہوں نے عوام کو دھوکہ دیا اور اس کا اعتراف بھی کیا۔
بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے فوٹیج کے ایڈیٹنگ پر معذرت کی ہے، جب کہ ادارے کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بی بی سی اس خط کا جائزہ لے رہی ہے۔
ٹرمپ کی تقریر کی تدوین اور بی بی سی نیوز پر بڑھتی تنقید نے ادارے کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کے روز ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹو آف نیوز ڈیبرہ ٹرنَس نے استعفیٰ دے دیا۔
کیا ٹرمپ امریکہ میں بی بی سی پر مقدمہ کر سکتے ہیں؟
ٹرمپ کے وکلا نے اپنے خط میں اشارہ دیا ہے کہ مقدمہ فلوریڈا میں دائر کیا جائے گا، جہاں ٹرمپ کی قانونی رہائش موجود ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سب سے پہلا سوال یہ ہو گا کہ آیا بی بی سی نے فلوریڈا میں فعال طور پر اپنی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور کیا وہاں کے افراد نے متعلقہ دستاویزی فلم دیکھ کر خود کو گمراہ محسوس کیا۔
یہ عوامل عدالت کے لیے اس بات کے تعین میں اہم ہوں گے کہ آیا اسے مقدمے کی سماعت کا دائرہ اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
یہ دستاویزی فلم امریکہ میں نشر نہیں کی گئی تھی، تاہم یہ کچھ عرصہ پہلے تک بی بی سی کے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر دستیاب تھی۔
بی بی سی کے دفاتر لاس اینجلس اور نیویارک میں موجود ہیں اور اس کے خلاف اس سے قبل فلوریڈا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر ہو چکا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق کم از کم ایک مقدمے میں ادارے نے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج نہیں کیا تھا۔
اگر عدالت یہ نتیجہ اخذ کرے کہ اسے دائرہ اختیار حاصل نہیں، تو مقدمہ فوری طور پر خارج کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کو کیا ثابت کرنا ہو گا؟
امریکہ میں عوامی شخصیات کو ہتکِ عزت کے مقدمات میں انتہائی سخت قانونی معیار کا سامنا ہوتا ہے۔
انہیں یہ دکھانا ہوتا ہے کہ بیان غلط اور بدنام کرنے والا تھا، نیز یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ مدعا علیہ کو اس کی غلطی کا علم تھا یا اس نے جان بوجھ کر حقیقت کو نظرانداز کیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ’’ڈسکوری‘‘ کے عمل میں ٹرمپ کے وکلا غالباً بی بی سی سے یہ دریافت کریں گے کہ آیا ادارے کے اندرونی پیغامات یا ای میلز موجود ہیں جو یہ ظاہر کریں کہ ادارتی ٹیم نے کسی تنبیہ کو نظرانداز کیا یا ناظرین کو گمراہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ بی بی سی کے ایک داخلی میمو پر بھی انحصار کر سکتے ہیں جو ایک اخلاقی و معیاری مشیر نے تحریر کیا تھا۔ اس میمو میں ادارے پر سیاسی بائیں بازو کے حق میں نظامی جانبداری کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ ’’پینوراما‘‘ کی تدوینی کارروائی پر کی گئی اسی تنقید کو ٹرمپ کے وکلا بی بی سی کی بدنیتی کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
بی بی سی اپنا دفاع کیسے کر سکتی ہے؟
امریکی آئین کی پہلی ترمیم آزادیِ اظہار کی ضمانت دیتی ہے اور صحافت کو دنیا میں ہتکِ عزت کے مقدمات سے متعلق سب سے مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
بی بی سی کو کسی بھی امریکی عدالت میں یہ آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔ فلوریڈا میں ادارہ اس ریاستی قانون سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جو ایسے ہتکِ عزت کے مقدمات کو فوراً خارج کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کی کوئی بنیاد نہ ہو یا جو قانونی طور پر محفوظ اظہارِ رائے کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر لائے گئے ہوں۔
قانونی ماہرین کے مطابق بی بی سی یہ مؤقف اپنا سکتی ہے کہ دستاویزی فلم بنیادی طور پر درست تھی اور اس کی تدوین سے کوئی غلط تاثر پیدا نہیں ہوا۔ وہ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ پروگرام نے ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچایا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام نے انہیں ’’شدید شہرتی اور مالی نقصان‘‘ پہنچایا ہے۔
ٹرمپ برطانیہ میں مقدمہ کیوں نہیں کر رہے؟
برطانوی قانون کے تحت ہتکِ عزت کے مقدمات اشاعت کے ایک سال کے اندر داخل کیے جانے ضروری ہیں، اور 2024 کے اکتوبر میں نشر ہونے والی اس دستاویزی فلم کے لیے یہ مدت ختم ہو چکی ہے۔
برطانیہ میں ہتکِ عزت کے معاوضے کی بالائی حد تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 4 لاکھ 69 ہزار 735 ڈالر) ہے، تاہم عملی طور پر فیصلے شاذونادر ہی اس رقم کے قریب پہنچتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ میں معاوضے کی رقوم بعض اوقات 1.4 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔
کیا ٹرمپ واقعی ایک ارب ڈالر وصول کر سکتے ہیں؟
یہ رقم دراصل ابتدائی مطالبہ ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق امریکی مدعی اکثر بھاری ہرجانے کی رقم کا اعلان اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں مقدمے میں نفسیاتی برتری حاصل ہو یا سمجھوتے کی بات چیت کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
آخرکار ہرجانے کی حتمی رقم عدالت یا جیوری طے کرے گی۔
اگر ٹرمپ ایک ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کرتے ہیں تو یہ پہلا موقع نہیں ہو گا جب انہوں نے کسی میڈیا ادارے سے اتنی بڑی رقم کا مطالبہ کیا ہو۔
ٹرمپ نے 2024 میں سی بی ایس کے خلاف 20 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کیا تھا، الزام تھا کہ اس نے نائب صدر کملا ہیریس کے ساتھ ان کے انٹرویو کو ’’گمراہ کن انداز‘‘ میں ایڈیٹ کیا۔ یہ مقدمہ بعد میں 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں طے پایا۔
اسی طرح ٹرمپ نے جولائی 2025 میں وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف 10 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کیا، جس میں اخبار پر ان کے مبینہ طور پر متوفی مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط کے بارے میں ’’جھوٹا مضمون‘‘ شائع کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے کسی بھی غلطی سے انکار کیا ہے اور یہ مقدمہ ابھی جاری ہے۔

