اسلام آباد (مشرق نامہ) – حکومت نے بدھ کے روز آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 10 روپے 28 پیسے اور 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔
رات گئے جاری اعلامیے میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایکس ڈپو سطح پر پیٹرول کی قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر سے کم کر کے 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیہ سواریوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی قیمتوں میں ردوبدل براہِ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت موجودہ پندرہ روزہ مدت کے لیے 265 روپے 65 پیسے فی لیٹر سے کم ہو کر 257 روپے 08 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ملک کا بیشتر ٹرانسپورٹ نظام ڈیزل پر انحصار کرتا ہے۔
ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی سے منسلک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ، ریل گاڑیوں اور زرعی مشینری جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔
اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح صفر ہے، تاہم حکومت ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول و ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کے طور پر وصول کر رہی ہے، اس کے علاوہ 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی عائد ہے۔
حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مقامی پیداوار یا درآمد سے قطع نظر تقریباً 16 سے 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے، جبکہ مزید تقریباً 17 روپے فی لیٹر تقسیم اور فروخت کے مارجن کی مد میں آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو دیے جاتے ہیں۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومتی آمدن کے بڑے ذرائع شمار ہوتے ہیں، جن کی ماہانہ اوسط فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن رہتی ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن کے لگ بھگ ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران حکومت نے صرف پیٹرولیم لیوی کے ذریعے تقریباً ایک ہزار 161 ارب روپے وصول کیے، جبکہ موجودہ مالی سال میں اس آمدن میں تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار 470 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

