بدھ, فروری 11, 2026
ہوممضامینڈالر اب محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا، امریکی معاشی کمزوریاں اس پر...

ڈالر اب محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا، امریکی معاشی کمزوریاں اس پر اعتماد کو کھوکھلا کر رہی ہیں، ماہرِ معیشت
ڈ

تحریر: سید ظفر مہدی

دنیا کے معروف ماہرِ معیشت کے مطابق ڈالر کا نظام غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ خود امریکا کا رویہ اور اس کے اقدامات ہیں۔

پریس ٹی وی کی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برازیل کے ماہرِ معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاؤلو نوگیریا باتیستا جونیئر نے کہا کہ امریکی ڈالر کو امریکا نے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالر کو اب بہت سے لوگ محفوظ پناہ گاہ کے طور پر نہیں دیکھتے۔ مزید یہ کہ امریکی معیشت کی کمزوریاں بھی ڈالر پر اعتماد کو کمزور کر رہی ہیں۔ باتیستا جونیئر، جو شنگھائی میں قائم نیو ڈیولپمنٹ بینک کے بانی اراکین میں شامل رہے، نے یہ بات کہی۔

ان کے مطابق، ان کی نظر میں سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ ڈالر میں بتدریج کمی کا تسلسل ہے، تاہم اگر امریکا میں کوئی نیا بڑا مالی بحران جنم لیتا ہے تو یہ زوال مزید تیز ہو سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ڈی ڈالرائزیشن کا عمل نمایاں طور پر تیز ہوا ہے، خاص طور پر چین اور روس کی قیادت میں ابھرنے والے نئے علاقائی اتحادوں جیسے برکس کے ظہور کے بعد۔

یوکرین کی جنگ کے آغاز اور اس کے بعد امریکا اور یورپ کی جانب سے روسی اثاثوں کے منجمد کیے جانے کے بعد، ڈی ڈالرائزیشن کی عالمی کوششوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی جنوب کے ممالک اسے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

کئی ممالک پہلے ہی بین الاقوامی لین دین اپنی قومی کرنسیوں میں کر رہے ہیں یا متبادل ادائیگی نظام اپنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ممکنہ برکس کرنسی پر بھی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

تاہم باتیستا جونیئر کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ قریبی مستقبل میں برکس کی کرنسی حقیقت بن سکے گی، لیکن ان کے نزدیک ایک نئی ریزرو کرنسی کی ضرورت ناقابلِ تردید ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے، چاہے اسے تکنیکی زاویے سے دیکھا جائے یا سیاسی نقطۂ نظر سے، لیکن ایک نئی ریزرو کرنسی کی ضرورت واضح ہے، اور امید ظاہر کی کہ برکس اس چیلنج کا مقابلہ کر سکیں گے۔

عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ برکس جیسے ابھرتے ہوئے اتحاد، جن میں چین، روس، برازیل، بھارت اور ایران شامل ہیں، موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کو چیلنج کریں گے اور بالآخر اسے نئی شکل دیں گے، جبکہ نیو ڈیولپمنٹ بینک جیسے ادارے اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برازیلی ماہرِ معیشت، جو کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، جن میں دی برکس اینڈ دی فنانسنگ میکینزمز دے کری ایٹڈ: پروگریس اینڈ شارٹ کمنگز (2021، اینتھم پریس) شامل ہے، نے کہا کہ عالمی جنوب کو برکس سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس گروپ کے ممالک کو اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہوگا، کیونکہ چین، روس، برازیل، بھارت، ایران اور دیگر برکس ارکان بین الاقوامی مالیاتی نظام کی تشکیلِ نو میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم اب تک ہم نے اس کے مطابق عمل نہیں کیا۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن وہ اب بھی عالمی کردار ادا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ادارے کے بانیوں میں شامل تھے اور بتا سکتے ہیں کہ منصوبے میں شامل بہت سے افراد کو ابتدائی دس برسوں میں بینک سے کہیں زیادہ توقعات تھیں۔

باتیستا جونیئر نے کہا کہ ایران پہلا ملک تھا جس نے باضابطہ طور پر نیو ڈیولپمنٹ بینک میں شمولیت کی درخواست دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تاہم ایک دہائی گزر چکی ہے اور ایران اب تک اس بینک کا رکن نہیں بن سکا۔ ایران برکس کے سیاسی فریم ورک کا رکن ضرور ہے، لیکن اس ترقیاتی بینک کا حصہ نہیں جو اس گروپ نے قائم کیا تھا۔

حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی جاری کی ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ واشنگٹن کی نئی ترجیح چین یا مشرقِ وسطیٰ نہیں بلکہ مغربی نصف کرہ ہے۔ بہت سے مبصرین اس کو امریکی زیرِ قیادت یک قطبی عالمی نظام کے خاتمے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

باتیستا جونیئر نے کہا کہ یک قطبی نظام کافی عرصے سے ختم ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق، تاریخی طور پر یہ دراصل ایک مختصر یک قطبی لمحہ تھا، جو بنیادی طور پر 1990 کی دہائی تک محدود رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی حکمتِ عملی ٹرمپ انتظامیہ کے جغرافیائی سیاسی نظریات کی عکاسی کرتی ہے، اور مغربی نصف کرہ کے حوالے سے اس کی بنیادی تشویش خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی انیسویں صدی کے منرو ڈاکٹرائن کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے، یعنی امریکا صرف امریکیوں کے لیے۔ اس وقت یہ نظریہ یورپی طاقتوں کے خلاف تھا، جبکہ نیا منرو ڈاکٹرائن زیادہ تر چین کو ہدف بناتا ہے۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا باقی ہے کہ لاطینی امریکا کے کون سے ممالک منرو ڈاکٹرائن 2.0 کو قبول کرتے ہیں اور کون سے نہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ برازیل اسے قبول نہیں کرے گا۔

وینزویلا کے گرد امریکی فوجی جمع ہونے اور جنوبی امریکا کے خطے کے متعدد ممالک کے خلاف دھمکیوں سے متعلق، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر سرخیاں بنائیں، برازیلی ماہرِ معیشت نے کہا کہ منشیات کا مسئلہ محض ایک بہانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل محرک وینزویلا کے بے پناہ تیل کے ذخائر ہیں، اور امریکی حکومت کاراکاس میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین