پاکستان کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا:”یہ مکروہ اقدام بین الاقوامی قانون اور انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے مترادف ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملے خطے کے امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور کہا کہ:
"پاکستان، ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔”
وزارت خارجہ کا مؤقف:دفتر خارجہ نے بھی اسرائیلی جارحیت کو غیر اخلاقی، غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا:
یہ حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔دفتر خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے دفاعی حق کو درست اور جائز قرار دیا، اور عالمی برادری و اقوام متحدہ سے فوری اقدام، اسرائیلی جارحیت روکنے اور اسے جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔پس منظر: اسرائیلی آپریشن رائزنگ لائن جمعہ کے روز اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے، جنہیں وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے جوہری اور میزائل خطرے کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق:نطنز (یورینیم افزودگی کا مرکزی مقام) کے قریب دھماکے ,تہران کے رہائشی علاقوں پر حملے, پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی شہید ,پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی شہید پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی شہید
ایران کا ردعمل: اسرائیل نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے پیشِ نظر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔خونریز اور شیطانی جرم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ صہیونی ریاست کو اس کا کڑوا انجام بھگتنا ہوگا۔ :رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حملوں کو
مختصر سرخی تجویز:پاکستان کی اسرائیلی حملوں کی مذمت، ایران سے اظہار یکجہتی اور عالمی اقدام کا مطالبہ
یا
اسحاق ڈار: اسرائیلی جارحیت انسانیت کے ضمیر پر حملہ ہے، عالمی برادری حرکت میں آئے

