پیر, اپریل 13, 2026
ہومبین الاقوامیآیت اللہ سید علی خامنہ ای:صہیونی جرم کا جواب ناگزیر

آیت اللہ سید علی خامنہ ای:صہیونی جرم کا جواب ناگزیر
آ

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کی سرزمین پر اسرائیلی حملے کو خونریز اور ناپاک جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور واضح الفاظ میں جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے ایرانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:صہیونی رژیم نے آج صبح ہمارے عزیز وطن پر حملہ کر کے اپنی شیطانی اور خون آلود فطرت کو مزید عیاں کر دیا ہے۔ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا اس کے گھناؤنے عزائم کی علامت ہے۔

ہ سید خامنہ ای نے خبردار کیا کہ: صہیونی رژیم سخت سزا کی منتظر رہے۔ اللہ کے فضل سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی طاقتور بازو اسے بلا جواب نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایران کی پیش رفت یا دفاعی طاقت کو متاثر نہیں کرے گا:
"شہداء کے جانشین اور ساتھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔”

اسی تناظر میں ایرانی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ:
اسرائیل کے خلاف ایران کا جواب دینا بین الاقوامی قانون کے تحت ایک جائز اور قانونی حق ہے۔

وزارت خارجہ نے ایرانی رہنماء اور قوم سے کمانڈروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ایران پر اسرائیلی حملے کو "خونریز جرم” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونی رژیم کو سخت سزا دی جائے گی۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کو قانونی حق قرار دیا ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل کے حملے کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:
صہیونی رژیم کے حملے ایران کے خلاف جارحیت ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2، پیراگراف 4 کی خلاف ورزی ہیں، اور ایران کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جواب دینے کا مکمل قانونی اور جائز حق حاصل ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج ایرانی قوم کے دفاع میں کوئی تردد نہیں کریں گی، اور جو بھی مناسب سمجھیں گی، وہی طریقہ اختیار کریں گی۔

بیان میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر فوری کارروائی کی اپیل کی گئی:
ایران، جو اقوامِ متحدہ کا بانی رکن ہے اور امن کے قیام کے اصولوں پر قائم ہے، سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صہیونی جارحیت کے خلاف فوری قدم اٹھائے۔

بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا اور تمام مسلمان و علاقائی ممالک سے کہا گیا کہ:
اس جارحیت کی فوری مذمت کریں اور عالمی امن کو لاحق خطرے کے خلاف متحد ہو کر عملی اقدام کریں۔

ابیامریکی شراکت: ن کے آخر میں امریکا پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اسرائیل کو "سبز بتی” دکھا کر اس حملے میں شریکِ جرم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

اسرائیلی حملے میں اہم ایرانی عسکری و سائنسی شخصیات شہید ہوئیں:شہادتیں:

میجر جنرل حسین سلامی (سپہ سالار، پاسداران انقلاب اسلامی IRGC)

میجر جنرل محمد باقری (چیف آف اسٹاف، ایرانی افواج)

میجر جنرل غلام علی رشید (کمانڈر، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر) اور ان کے بیٹے

ایڈمرل علی شمخانی (رہبر کے مشیر) شدید زخمی اور اسپتال منتقل

چھ ایٹمی سائنسدان بھی شہی,

د:احمد رضا ذوالفقاری,سید امیر حسین فغاہی,خلیل مطلب زادہ ,محمد مهدی طہرانچ

فریدون عباسیسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ آپریشن "جتنے دن بھی درکار ہوں” جاری رہے گا، اور ایران کے مختلف علاقوں میں حملے کیے جا رہے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اپنے سپہ سالار حسین سلامی کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہاایران کا ردعمل:
اسرائیل نے امریکی دہشتگرد حکومت کے علم کے ساتھ یہ جرم کیا ہے اور اسے اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ دشمنوں کو شدید انتقام کے لیے تیار رہنا چاہیے۔اسرائیلی اعلان:

مقبول مضامین

مقبول مضامین