منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیچین کا غزہ میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد...

چین کا غزہ میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کا خیرمقدم
چ

چینی مندوب کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کے حق میں قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے جمعرات کو جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی غزہ میں فوری جنگ بندی اور وسیع پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ: یہ قرارداد عالمی برادری کی زبردست اکثریت کی آواز کی عکاس ہے، ایک مضبوط سیاسی پیغام دیتی ہے، اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی وسیع اکثریت کے درمیان یکجہتی اور اتفاق رائے کو ظاہر کرتی ہے۔

فو کونگ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسی طرح کی قرارداد امریکہ کے ویٹو کی وجہ سے منظور نہ ہو سکی۔

انہوں نے ووٹنگ کے بعد وضاحت دیتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی جارحیت فوری طور پر روکے۔
انہوں نے کہا:

اسرائیل غزہ پر اپنی فوجی کارروائیاں تیز کرتا جا رہا ہے، اور ہر دن بڑی تعداد میں بے گناہ جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ کوئی بھی جواز شہریوں کے قتل کو نہ تو جائز بناتا ہے اور نہ ہی اسے باوقار ٹھہرا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ: فوری اور مستقل جنگ بندی ہی جانیں بچانے اور یرغمالیوں کی واپسی کا درست راستہ ہے۔ چین اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غزہ میں تمام فوجی کارروائیاں فوری بند کرے۔ بااثر ممالک کو غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے اور مؤثر و مضبوط اقدامات کرنے چاہئیں۔

فو نے انسانی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا:

اقوام متحدہ اور امدادی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں وسیع پیمانے پر قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سرحدوں پر خوراک سے بھرے گودام موجود ہیں جو بھوکے شہریوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔

انہوں نے کہا: لوگوں کے زندہ رہنے کے حق کو زبردستی چھیننا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے — یہ ظلم ہے اور ناقابلِ قبول ہے۔
چین انسانی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سخت مخالفت کرتا ہے، اور اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی فوراً ختم کرے، انسانی امداد کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے، اور اقوام متحدہ و دیگر امدادی اداروں کو اپنا کام کرنے دے۔

تنازع کے آغاز سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے جنگ بندی کی متعدد قراردادیں منظور کی ہیں، اور عالمی عدالت انصاف نے بھی کئی احکامات جاری کیے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

افو کونگ نے کہا کہ: اقوام متحدہ کے منشور کے تحت سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد تمام رکن ممالک کی ذمہ داری ہے، اور بین الاقوامی قانون و انسانی اصولوں کی پاسداری تمام ریاستوں پر لازم ہے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور جوابدہی کو یقینی بنائے تاکہ کثیرالجہتی نظام اور قانون کی بالادستی کا دفاع کیا جا سکے

چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی، انسانی بحران میں کمی، اور فلسطینی مسئلے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کام جاری رکھے گا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ قرارداد 149 ووٹوں سے منظور ہوئی، 12 ممالک نے مخالفت کی، جبکہ 19 نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔ چین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین