بیروت میں موساد کے لیے کام کرنے والا یمنی جاسوس گرفتار، اسرائیلی حملے میں نشانہ بننے والی یمن کی فیکٹری کی نشاندہی کر چکا تھا
یمن اور لبنان سے متعلق ایک پیچیدہ سیکیورٹی اور سفارتی معاملے میں، لبنانی سیکیورٹی فورسز نے ایک یمنی جاسوس کو گرفتار کر لیا ہے، جو بیروت میں سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت کے تحت یمنی سفارت خانے میں مشیر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ شخص کو اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے بھرتی کیا تھا۔
گرفتار جاسوس کی شناخت مقبل ب۔اے۔ایچ. (Muqbil B.A.H.) کے نام سے ہوئی ہے۔ اس نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت کے لیے خفیہ معلومات اکٹھی کرتا رہا اور یمن میں اہداف کی نشاندہی بھی کی، جن میں عمران سیمنٹ فیکٹری شامل ہے — جسے بعد میں 6 مئی کو اسرائیل نے حملے کا نشانہ بنایا۔
لبنانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ گرفتاری مرکزی تفتیشی ڈویژن اور انفارمیشن برانچ نے مشترکہ کارروائی میں کی۔ جاسوس کی پیدائش 1982 میں یمن کے الحدیدہ صوبے میں ہوئی اور وہ بیروت میں یمنی سفارت خانے میں سرکاری مشیر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ 4 مارچ کو وہ عدن حکومت کی طرف سے باضابطہ تقرری کے ساتھ لبنان پہنچا۔ اس کی نقل و حرکت کو ہوٹلوں اور مختلف مقامات پر خفیہ نگرانی کے ذریعے ٹریک کیا گیا، جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔
خبر رساں ادارے یونیو نیوز (Unews) کے مطابق، ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اسے مصر میں قیام کے دوران موساد نے بھرتی کیا، جس کے عوض اسے فرانس میں رہائش دینے کا لالچ دیا گیا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت کے لیے جاسوسی کے متعدد مشن پر کام کر رہا تھا۔
تفتیش کے مطابق، اس کا ایک بڑا مشن یمن میں واقع عمران سیمنٹ فیکٹری کی لوکیشن فراہم کرنا تھا، جو بعد میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہوئی۔ مزید انکشاف ہوا کہ اس نے لبنان میں مشنز کی آسانی کے لیے 2011 ماڈل کی مرسڈیز ML گاڑی بھی خریدی تھی۔
ادھر سعودی اتحاد کے زیر اثر میڈیا نے اس اسکینڈل کو صنعاء حکومت سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی تاکہ اس کی ساکھ کو متاثر کیا جا سکے، مگر حقائق سامنے آنے کے بعد یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا۔
یمن کی وزارت خارجہ (صنعاء) کے سفارتی ذرائع نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والا شخص سراسر عدن حکومت سے وابستہ ہے اور اسے تنخواہ سعودی عرب اور عدن انتظامیہ سے ملتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس شخص کا صنعاء حکومت یا اس کے کسی اہلکار سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ کیس خطے میں انٹیلی جنس دراندازی کی گہرائی اور سیکیورٹی خطرات کی شدت کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ عدن حکومت، اسرائیل، اور سعودی عرب کے درمیان خفیہ تعاون کی موجودگی کی بھی ایک بڑی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

