منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیسید عبدالملک کا لبنانی عوام سے خطاب: "حزب اللہ اسرائیلی جارحیت کے...

سید عبدالملک کا لبنانی عوام سے خطاب: "حزب اللہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف آپ کی ڈھال ہے”
س

یمن: سید عبدالملک کا مسلم اُمت سے خطاب — "حزب اللہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف آپ کی ڈھال ہے”
یمن میں انقلاب کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے آج سہ پہر مسلم اُمت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی دشمن مقبوضہ مغربی کنارے میں روزانہ کی بنیاد پر جارحیت اور خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا:
"صیہونی یہودی روزانہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولتے ہیں، تلمودی رسومات ادا کرتے ہیں، ناچ گانے اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز حرکات کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی دشمن القدس کو یہودیانے کے منصوبے کو بھی تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں نئی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔

سید عبدالملک نے وضاحت کی کہ اسرائیلی دشمن شیخ جراح، سلوان، جبل المُکبر، اور العیسویہ جیسے علاقوں میں فلسطینیوں کی جائیدادوں پر حملے، زبردستی انخلاء، اور گھروں کو منہدم کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمن حضرت ابراہیمی مسجد (الخلیل) پر مکمل قبضے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے ایک یہودی کنیسہ میں تبدیل کیا جا سکے، حالانکہ یہ مسلمانوں کے لیے مقدس مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ
"دشمن روزانہ مغربی کنارے میں قتل و غارت، اغوا، زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری، اور جبری نقل مکانی جیسی تمام ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ متعدد پناہ گزین کیمپوں میں زبردستی بے دخلی کے واقعات بھی جاری ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ
"دشمن مغربی کنارے کے شہروں پر محاصرہ مسلط کر رہا ہے، فوجی چوکیوں کی تعمیر سے شہروں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں لگا دی گئی ہیں، جس سے پورا علاقہ ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔”

اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں 22 نئی غیر قانونی بستیاں قائم کرنے کے فیصلے کو "دو ریاستی حل” کے خاتمے کے مترادف قرار دیتے ہوئے سید عبدالملک نے کہا:
"دشمن نے دو ریاستی حل کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔ یہ صرف وقتی فریب دینے کا ایک حربہ تھا، حقیقت میں وہ اسے کبھی ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔”

انہوں نے انکشاف کیا کہ
"دشمن ایک جامع منصوبے پر عمل کر رہا ہے تاکہ پورے فلسطین اور اس سے آگے تک مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے، جو اس کے معروف جارحانہ صہیونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔”

انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"رام اللہ میں قائم اتھارٹی مزاحمت کے خلاف ایک ناکام اور گمراہ کن راستے پر چل رہی ہے، جس کی ناکامی حقیقت نے ثابت کر دی ہے۔”

لبنان اور حزب اللہ پر زور
لبنان کے حالات کے حوالے سے سید عبدالملک نے تمام لبنانیوں سے اپیل کی کہ وہ "مزاحمت اور حزب اللہ کے گرد مزید مضبوطی سے متحد ہو جائیں، کیونکہ یہی اسرائیلی جارحیت کے خلاف حقیقی ضمانت ہے۔”

انہوں نے کہا کہ
"صیہونی دشمن نے لبنان اور شام پر حملے تیز کر دیے ہیں، جو تمام بین الاقوامی معاہدوں اور ضمانتوں کی خلاف ورزی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مزاحمت ہی واحد ناگزیر راستہ ہے۔”

انہوں نے عید الاضحیٰ کی رات بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی بمباری کو "متوقع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ
"دشمن مختلف طریقوں سے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس کی جاری جرائم یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا — یہاں تک کہ اس کے ضامن بھی اس پر بھروسا نہیں کر سکتے۔”

انہوں نے مزید کہا:
"تمام لبنانی مزاحمت اور حزب اللہ کے گرد اپنی صفوں کو مضبوط کریں، کیونکہ یہی واحد حقیقی دفاع ہے۔”

شام پر اسرائیلی حملے
شام کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے سید عبدالملک نے کہا کہ
"دشمن فضائی حملے، توپ خانے سے گولہ باری، اور زمینی دراندازی کر رہا ہے تاکہ فوجی اڈے قائم کیے جا سکیں، اور ساتھ ہی زرعی اراضی کو بھی برباد کیا جا رہا ہے۔”

امریکی کردار اور اسرائیلی جرائم
انہوں نے زور دے کر کہا کہ
"غزہ، الاقصیٰ، لبنان، اور شام میں اسرائیل کے جرائم اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کسی بھی پرامن حل کو نہیں مانتا۔”
انہوں نے کہا کہ
"امریکہ کی ملی بھگت صیہونی دشمن کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزیوں پر اُکساتی ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین