اسرائیلی حملے میں جنرل حسین سلامی سمیت متعدد اعلیٰ ایرانی کمانڈر اور جوہری سائنس دان شہید
اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی جمعہ کی صبح تہران پر اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، دیگر کئی سینئر ایرانی کمانڈر اور جوہری سائنس دان بھی اس وسیع پیمانے کے اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں، جن کا ہدف تہران اور ملک کے کئی صوبے بنے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی چینل IRIB نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر، میجر جنرل غلام علی رشید بھی ایک حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔
معروف تجربہ کار جوہری سائنس دان محمد مہدی تہرانچی اور فریدون عباسی بھی علیحدہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، میجر جنرل محمد باقری اس وقت جنگی کمرے (وار روم) میں موجود ہیں اور گردش کرتی افواہوں کے برخلاف، اسرائیلی حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
یہ حملے جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3 بجے تہران میں شروع ہوئے، جس کے بعد ملک کے مختلف صوبوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں تہران اور دیگر علاقوں کے رہائشی علاقوں میں شدید تباہی دیکھی جا سکتی ہے، جسے مبصرین نے "اندھا دھند اسرائیلی جارحیت” قرار دیا ہے۔
صہیونی حکومت نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نتنز، خرم آباد، خنداب اور دیگر کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے ایک سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اس دہشت گردی کے عمل پر "فیصلہ کن جواب” کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور اسرائیلی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جنگی دھمکیاں اس کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ اسرائیلی حملے کی منظوری دی، باوجود اس کے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور اتوار کو طے تھا، جو اب منسوخ ہونے کا امکان ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک بیان میں اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی اور تل ابیب حکومت کو شدید جواب دینے کا اعلان کیا۔
بیان میں کہا گیا:
"آج علی الصبح، صہیونی حکومت نے ایک بار پھر اپنے خبیث اور خون آلود ہاتھوں کو ہماری عزیز سرزمین پر جرم کے ذریعے آشکار کیا، اور رہائشی علاقوں پر حملے کر کے اپنی شیطانی فطرت کو مزید بے نقاب کیا۔ اب اسے سخت سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔”

