منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیایران کا امریکہ و اسرائیل کو غیر متوقع ردعمل کا انتباہ

ایران کا امریکہ و اسرائیل کو غیر متوقع ردعمل کا انتباہ
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک): ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت ’’اعلیٰ ترین فوجی تیاری‘‘ کی حالت میں ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں سوفٹ اور غیر متوقع ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت اپنی فوجی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے، اور اگر امریکہ یا صہیونی حکومت کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کرے تو وہ حیران کن ردعمل کا سامنا کریں گے۔
اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پریس ٹی وی کو بتایا۔

اس سیکیورٹی اہلکار نے خطے میں امریکی افواج کی حالیہ ازسرنو تعیناتی کو ایران کی وارننگز کے بعد ایک دفاعی اقدام قرار دیا، جن میں ایران نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ امریکہ کے علاقائی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی موجودہ سرگرمیاں ایران کے لیے کوئی خطرے کا پیغام نہیں بلکہ ایران کی دھمکیوں کے جواب میں ایک دفاعی ردعمل ہیں۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے مغربی ایشیا میں اپنے عملے کا جزوی انخلاء شروع کر دیا ہے۔ بدھ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے بغداد میں اپنے سفارت خانے سے غیر ہنگامی عملے کے انخلاء کا حکم دیا، جب کہ بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کو رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس لیے نکالا جا رہا ہے کیونکہ یہ علاقہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہم نے انہیں خبردار کر دیا ہے، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

امریکی حکام نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انٹیلیجنس معلومات کا حوالہ دیا ہے جن کے مطابق اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد ایران کی طرف سے ممکنہ جوابی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا کہ ایران نے حال ہی میں اسرائیل کے خفیہ دستاویزات کا ایک بڑا ذخیرہ حاصل کیا ہے، جس کے باعث اب اسے امریکہ اور صہیونی حکومت کے اہداف سے متعلق ایک نمایاں انٹیلیجنس برتری حاصل ہو گئی ہے۔

اتوار کے روز ایرانی انٹیلیجنس کے وزیر اسماعیل خطیب نے تصدیق کی کہ ان دستاویزات میں اسرائیل کے خفیہ جوہری پروگرام، اس کے منصوبے اور جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات شامل ہیں، اور ان تمام دستاویزات کو سخت خفیہ طریقے سے ایران منتقل کیا گیا ہے، جنہیں جلد شائع کیا جائے گا۔

اہلکار نے مزید کہا کہ ایران نے حال ہی میں دو ٹن وزنی وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کیا ہے، جس کا اعلان وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر نصیرزاده نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اب اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت سے پہلے مہلک پیشگی حملہ کرکے انہیں حیران کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن سے آنے والے متضاد بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ کے پاس میدانِ جنگ میں کوئی عملی حکمت عملی موجود نہیں، اسی لیے وہ نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر کوئی جارحیت کی تو وہ اس کے خفیہ جوہری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔

کونسل نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف یہ انٹیلیجنس کارروائی ایران کے وسیع تر منصوبے اور دشمن کی پروپیگنڈہ مہم کے خلاف خفیہ اقدامات کا حصہ ہے۔

اگر اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات، جن کا مقصد 2015 کے جوہری معاہدے کا متبادل تلاش کرنا ہے، خطرے میں پڑ جائیں گے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر امریکہ کو نکال لیا تھا۔

صدر ٹرمپ بارہا ایران کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے نیا معاہدہ نہ کیا تو وہ اسے "بمباری” کا نشانہ بنائیں گے۔ تاہم حالیہ بیانات میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے چند ماہ قبل اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے منصوبے کو روک دیا تھا تاکہ سفارتکاری کو ایک موقع دیا جا سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے پیر کے روز کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ دور کی بالواسطہ بات چیت اتوار کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والی ہے۔

واضح رہے کہ اپریل سے اب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پانچ دور کی بالواسطہ بات چیت ہو چکی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین