منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانقومی اسمبلی سے 345 ارب روپے کے اخراجات کی منظوری کی درخواست

قومی اسمبلی سے 345 ارب روپے کے اخراجات کی منظوری کی درخواست
ق

حکومت نے 345 ارب روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی سے رجوع کر لیا

اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران کیے گئے 345 ارب روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی سے بعد از وقت (ex-post facto) اجازت طلب کر لی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان اخراجات میں بھارت کے ساتھ کسی جنگ سے متعلق کوئی خرچ شامل نہیں۔ دفاعی مقاصد کے لیے 60 ارب روپے کا ضمنی گرانٹ دیا گیا، لیکن وہ بھی جنگ سے متعلق نہیں تھا۔

آئینی پس منظر:

آئین کے تحت حکومت غیر متوقع اخراجات کے لیے ضمنی گرانٹ جاری کر سکتی ہے، لیکن بعد ازاں اس کی منظوری قومی اسمبلی سے لینا لازم ہے۔ یہ عمل اب غیرمعمولی کے بجائے معمول بن چکا ہے۔

بجٹ پر اثر:

یہ اضافی اخراجات دیگر مدات سے رقم منتقل کر کے کیے گئے، جس سے بجٹ کا مجموعی حجم متاثر نہیں ہوا۔
تاہم، یہ عکاسی کرتا ہے کہ بجٹ سازی اور مالیاتی کنٹرول میں بہتری کی ضرورت ہے۔


IMF کی شرائط اور نگرانی:

  • حکومت نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ منظور شدہ بجٹ سے باہر کوئی اضافی خرچ نہیں ہوگا، سوائے قدرتی آفات کے۔
  • آئی ایم ایف نے فنڈز کی اندرونی منتقلی سے گرانٹ دینے کی حوصلہ شکنی پر بھی زور دیا ہے۔

اضافی اخراجات کی تفصیل:

سب سے بڑی مدات:

  • بجلی کے شعبے کو سبسڈی: 115 ارب روپے
  • زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن: 14 ارب روپے
  • چینی باشندوں کے خاندانوں کو معاوضہ (دہشتگردی واقعہ): 25.8 کروڑ روپے

مسلح افواج:

  • کل اضافی رقم: 59.5 ارب روپے
    • انسداد دہشتگردی کے اقدامات: 23.3 ارب
    • بحریہ کے منصوبے (جناح نیول بیس، تربت ایئر اسٹیشن): 7 ارب
    • سیکیورٹی ڈویژنز (شمال و جنوب): 12 ارب
    • آئی ایس پی آر کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن: 2 ارب
    • فینسنگ (ایران و افغانستان بارڈر): 1.3 ارب

دیگر اخراجات:

  • وی وی آئی پی طیاروں کی مرمت: 1.8 ارب
  • ریکوڈک مائننگ منصوبہ: 3.7 ارب
  • شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اجلاس: 1 ارب
  • ایف بی آر اہلکاروں کی رہائش و کارکردگی: 2.9 ارب
  • ایف بی آر کا شارٹ فال: 1.03 ٹریلین روپے

الیکشن کمیشن:

  • بلدیاتی انتخابات کے لیے 1.3 ارب روپے

سندھ میں ترقیاتی منصوبے:

  • گرین لائن بس منصوبہ، چھوٹے اسکیمز، سیلاب زدگان کے لیے:
    • سندھ مخصوص اسکیمز: 7.2 ارب
    • سیلاب زدہ علاقوں کے لیے: 30 ارب
    • PWD اسکیمز: 19.2 ارب
    • نامعلوم منصوبہ جات: 9 ارب

صحت و پارلیمانی گرانٹس:

  • پارلیمانی اسکیمز: 7 ارب
  • حفاظتی ٹیکوں کی ڈائریکٹوریٹ: 23.4 ارب

نتیجہ:

یہ اضافی اخراجات وفاقی حکومت کی غیر یقینی مالی منصوبہ بندی کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ IMF کے وعدوں سے ممکنہ تضاد بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
تاہم، قانونی طریقے سے ان کی منظوری کی کوشش حکومت کی شفافیت اور آئینی تقاضوں کی پاسداری کی طرف اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین