منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستاناقتصادی جائزہ 2024-25 میں سی پیک کی کامیابیاں اور مستقبل کے اہداف...

اقتصادی جائزہ 2024-25 میں سی پیک کی کامیابیاں اور مستقبل کے اہداف اجاگر
ا

سی پیک نے علاقائی رابطے اور اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، وزیر خزانہ

اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان اکنامک سروے 2024-25 پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت مختلف شعبوں، خاص طور پر ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور اسٹریٹجک ترقی میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان کے لیے علاقائی روابط اور معاشی ترقی میں تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔


اقتصادی جائزہ – کلیدی نکات:

  • رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی میں 2.7 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
  • سالانہ افراطِ زر (مہنگائی) 4.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • پاکستان اب معاشی استحکام اور بڑے تجارتی و رابطہ منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

سی پیک کے تحت مکمل شدہ منصوبے:

  1. ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں 8 منصوبے، جن کی مالیت 6.7 ارب ڈالر ہے، مکمل ہو چکے ہیں۔
  2. 888 کلومیٹر موٹروے اور ہائی وے مکمل کی گئیں، جبکہ مزید 853 کلومیٹر مقامی فنڈنگ سے زیر تعمیر ہیں۔
  3. اہم منصوبے:
    • ہویلیاں تا تھاکوٹ (120 کلومیٹر): بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ منصوبہ۔
    • ملتان تا سکھر موٹروے (392 کلومیٹر)
    • ہکلہ تا ڈی آئی خان موٹروے (297 کلومیٹر)
    • خضدار تا بسیما ہائی وے (110 کلومیٹر)

ڈیجیٹل و شہری ترقی:

  • کراس بارڈر آپٹیکل فائبر کیبل کی تکمیل۔
  • لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل۔
  • نئے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا آغاز، جس سے فضائی روابط میں بہتری آئی۔

زیر تعمیر منصوبے:

  • ژوب–کوئٹہ، نوکنڈی–مشخیل، اور آواران–خضدار روٹس پر کام جاری۔
  • بابو سر ٹنل اور میرپور–مظفرآباد–مانسہرہ راہداری کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز جاری۔

ریلوے اور سرکلر منصوبے:

  • ML‑1 منصوبہ ابھی تکنیکی و مالی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔
  • کراچی سرکلر ریلوے کا فریم ورک معاہدہ چینی حکام کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

گوادر بندرگاہ اور فری زون کی ترقی:

  • 2013 سے اب تک China Overseas Ports Holding Company (COPHCL) نے بندرگاہ کی بہتری کے لیے 50 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔
  • بندرگاہ اب مکمل طور پر فعال ہے اور باقاعدگی سے تجارتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔
  • 60 ایکڑ پر مشتمل پائلٹ فری زون میں مالیاتی، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور فشریز شعبوں میں کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
  • فری زون میں کل سرمایہ کاری: 250 ملین ڈالر
  • سرمایہ کاروں کو:
    • 23 سالہ ٹیکس چھوٹ
    • 100٪ غیر ملکی ملکیت کی اجازت
    • ون ونڈو آپریشنز کی سہولت دی گئی ہے۔

پانی کی فراہمی کا مسئلہ:

  • 1.2 ملین گیلن روزانہ کی صلاحیت رکھنے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ جون 2023 میں مکمل کیا گیا، جسے چین کے سماجی و اقتصادی امدادی پروگرام کے تحت فنڈ کیا گیا۔

خلاصہ:

سی پیک اب صرف سڑکوں اور توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت قومی حکمت عملی بن چکا ہے، جو پاکستان کو علاقائی تجارت، جدید انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل روابط، اور معاشی استحکام کی طرف لے جا رہا ہے۔

"یہ پلانٹ گوادر بندرگاہ کے گردونواح کی آبادی اور گوادر فری زون فیز-I کی پانی کی ضروریات پوری کرے گا۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت نے سال 2024-25 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں گوادر کے لیے اضافی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • زمین کی خریداری (Land Acquisition)
  • رہائشی انفراسٹرکچر (Housing Infrastructure)
  • ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز-II (East Bay Expressway Phase-II)

یہ تمام اقدامات گوادر کو ایک مکمل علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین