اسلام آباد: مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں پر "انرجی وہیکل ایڈاپشن لیوی” عائد
12 جون 2025، بذریعہ نمائندہ خصوصی
اسلام آباد: حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مقامی طور پر تیار اور درآمد شدہ گاڑیوں پر نیا ٹیکس عائد کر دیا ہے، جسے "انرجی وہیکل ایڈاپشن لیوی (Energy Vehicle Adoption Levy)” کا نام دیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد عوام کو الیکٹرک گاڑیوں (EVs) — جن میں بسیں، ٹرک، موٹر سائیکلیں اور رکشے شامل ہیں — کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔
تفصیلات (فنانس بل 2025-26 کے مطابق):
مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیاں (Internal Combustion Engine Vehicles)
- 1300 سی سی سے کم انجن گنجائش والی گاڑیاں:
- مینوفیکچرر کو انوائس قیمت (ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت) کا 1 فیصد ادا کرنا ہوگا۔
- 1300 سی سی سے 1800 سی سی تک کی گاڑیاں:
- مینوفیکچرر کو انوائس قیمت کا 2 فیصد ادا کرنا ہوگا۔
- 1800 سی سی سے زائد انجن گنجائش والی گاڑیاں:
- مینوفیکچرر کو انوائس قیمت کا 3 فیصد ادا کرنا ہوگا۔
- مقامی طور پر تیار کردہ بس اور ٹرک (Internal Combustion Engine):
- مینوفیکچرر کو 1 فیصد لیوی ادا کرنا ہوگی۔
درآمد شدہ گاڑیاں (Imported Vehicles)
- 1300 سی سی سے کم انجن گنجائش والی درآمد شدہ گاڑیاں:
- امپورٹر کو Assess شدہ ویلیو (ڈیوٹیز و ٹیکسز سمیت) کا 1 فیصد ادا کرنا ہوگا۔
- 1300 سی سی سے 1800 سی سی تک کی گاڑیاں:
- امپورٹر کو Assess شدہ ویلیو کا 2 فیصد دینا ہوگا۔
- 1800 سی سی سے زائد انجن گنجائش والی گاڑیاں:
- امپورٹر کو Assess شدہ ویلیو کا 3 فیصد دینا ہوگا۔
- درآمد شدہ بس اور ٹرک (Internal Combustion Engine):
- امپورٹر کو 1 فیصد لیوی ادا کرنا ہوگی۔
اہم نکات:
- یہ لیوی صرف انجن والی گاڑیوں (Internal Combustion Engine Vehicles) پر لاگو ہو گی، تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی راہ ہموار کی جا سکے۔
- اس اقدام سے حکومت کو آمدنی بھی حاصل ہو گی اور آلودگی میں کمی لانے کے مقاصد کو بھی تقویت ملے گی۔

