امریکہ نے بغداد، عراق میں اپنے سفارت خانے سے سفارتی عملے کا انخلاء شروع کر دیا، امریکی عہدیدار کی تصدیق
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بدھ کے روز اناطولو ایجنسی کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے بغداد، عراق میں اپنے سفارت خانے سے سفارتی عملے کا انخلاء شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے بیان میں کہا:
"صدر ٹرمپ امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پُرعزم ہیں۔ اسی عزم کے تحت ہم اپنی تمام سفارت خانوں میں عملے کی موجودگی کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں۔ ہماری تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ کی بنیاد پر ہم نے عراق میں امریکی مشن کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انخلاء میں تمام سفارتی عملہ شامل ہے یا صرف منتخب افراد۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب تین دن قبل صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ یہ مقام وائٹ ہاؤس کے مقابلے میں زیادہ رازداری فراہم کرتا ہے، جو حساس نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
اجلاس کی تفصیلات زیادہ ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اس میں اعلیٰ فوجی حکام بھی شامل تھے۔
علاحدہ طور پر، نیوز ویب سائٹ Axios نے نامعلوم اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر گزشتہ دنوں انتہائی ہائی الرٹ جاری رکھا ہے۔
بدھ کے روز ہی، ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصرزادہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جنگ میں بدل گئی تو ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے تہران میں کابینہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو امریکہ کو ایران سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں تمام امریکی اڈے ایرانی میزائلوں کی رینج میں ہیں، اور ایران انہیں میزبان ممالک میں بھی بلا جھجک نشانہ بنا سکتا ہے۔
ناصر زادہ نے مزید کہا کہ ایران نے دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اس کی افواج مکمل طور پر لیس اور ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی وزیر دفاع کے اس بیان سے ایک روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر جنرل مائیکل کوریلا نے امریکی کانگریس میں گواہی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے ہیں۔
جب ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے ان سے پوچھا کہ کیا CENTCOM طاقت کے استعمال کے لیے تیار ہے اگر ایران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے، تو کوریلا نے "ہاں” میں جواب دیا۔
اسی تناظر میں جمعرات کو سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی میں جنرل کوریلا کی پیشی ملتوی کر دی گئی۔
اگرچہ عمان کی ثالثی میں بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری ہیں، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
اصل تنازعہ ایران کے یورینیم افزودگی (enrichment) کے پروگرام پر ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران افزودگی کو مکمل طور پر بند کرے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ناقابلِ مذاکرات ہے اور معاہدہ ہو یا نہ ہو، یہ جاری رہے گا۔
جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کے روز مسقط، عمان میں متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ، جو ماضی میں سفارتی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی حمایت کر چکے ہیں، نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں اب ایران کی طرف سے یورینیم افزودگی روکنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

