اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کو "چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن” کے موقع پر حکومت کے اداروں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے محافظوں، میڈیا، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، اساتذہ، والدین اور علماء پر زور دیا کہ وہ بچوں سے محنت مشقت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں متحد ہو کر ایسی مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی جو ان نظاموں کو ختم کریں جو بچوں کا استحصال کرتے ہیں اور ایک ایسا پاکستان اور دنیا تشکیل دیں "جہاں ہر بچہ آزاد ہو کر خواب دیکھ سکے، سیکھ سکے اور ایک روشن مستقبل کی تعمیر کر سکے۔”
صدر زرداری نے اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن” ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ہر بچے کو استحصال سے بچانے کے لیے کوشش کرنی ہے اور ایک ایسا مستقبل بنانا ہے جہاں بچے محفوظ اور باعزت ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں، کھیل سکیں اور پروان چڑھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ لیبر ایک عالمی مسئلہ ہے جو حکومتوں اور سول سوسائٹی سے اجتماعی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ بچوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، جو بچوں سے محنت مشقت کے خاتمے کے لیے متعدد بین الاقوامی کنونشنز کا دستخط کنندہ ہے، بچوں کے استحصال کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس ضمن میں کئی اقدامات کیے ہیں جن میں بچوں کے استحصال کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کی مدد شامل ہے۔ پاکستان نے درج ذیل قوانین نافذ کیے ہیں: نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ ایکٹ (2017)، آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ (2018)، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (2018)، ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ (1991)، اور ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ (2002)۔
صدر کے مطابق، پاکستان نے بچوں کے استحصال، جبری مشقت کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کو تحفظ، نگہداشت اور بحالی فراہم کرنے کے لیے مؤثر نظام اور خدمات بھی قائم کی ہیں۔
انہوں نے کہا، "ان اقدامات میں نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور چائلڈ ویلفیئر بیوروز کا قیام بھی شامل ہے۔” صدر زرداری نے کہا کہ اگرچہ حکومت قوانین اور پالیسیوں کو نافذ کر رہی ہے، لیکن بچوں سے محنت مشقت کے خاتمے کی ذمہ داری مشترکہ ہے۔ انہوں نے آجر حضرات پر زور دیا کہ وہ چائلڈ لیبر سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کریں اور اپنے کام کی جگہوں کو بچوں کے استحصال سے پاک رکھیں۔
انہوں نے کہا، "میں والدین اور سرپرستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قلیل مدتی مالی فائدے کے بجائے اپنے بچوں کی تعلیم کو ترجیح دیں۔ میں اسکولوں اور اساتذہ سے کہتا ہوں کہ وہ ایسے بچوں کی شناخت کریں جو اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار ہوں اور انہیں کلاس میں برقرار رکھیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ چائلڈ لیبر کے بارے میں شعور اجاگر کرے، اور مخیر حضرات و سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ کمزور خاندانوں کی مدد کریں تاکہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے محنت مشقت کرنے پر مجبور نہ ہو۔”
صدر نے دنیا بھر میں تنازعات کا شکار بچوں کو درپیش مشکلات پر بھی روشنی ڈالی اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ جیسے تنازعہ زدہ علاقوں میں بچوں کی حالت زار پر فوری توجہ دے۔
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ہزاروں معصوم بچے تشدد اور جارحیت کے باعث بے گھر، زخمی یا یتیم ہو چکے ہیں۔
صدر نے مزید کہا، "بہت سے بچے بھوک، ذہنی صدمے اور جبری مشقت میں دھکیل دیے جانے کے شدید خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان بچوں کو فوری طور پر عالمی سطح پر مدد، تحفظ اور انصاف کی ضرورت ہے۔”

