لندن / اسلام آباد – پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے لندن میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں مدد فراہم کرے۔
وفد کی قیادت سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کی، جنہوں نے ویسٹ منسٹر میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ برائے جموں و کشمیر سے ملاقات کی۔ وفد نے گروپ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی، خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام، اور بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔
پاکستانی وفد نے بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت، بشمول آزاد کشمیر میں شہری آبادی پر بلااشتعال حملوں اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وفد نے واضح کیا کہ کشمیر کا حل طلب تنازع خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات، جیسے آرٹیکل 370 کی منسوخی، نے کشمیری عوام کی مایوسی میں اضافہ اور علاقائی تناؤ کو شدید تر کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پاہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتِ حال اور بھارت کے بے بنیاد الزامات پر پاکستان کی تشویش سے برطانوی اسپیکر کو آگاہ کیا۔
وفد نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور عام شہریوں پر حملوں کو بین الاقوامی قانون اور بین الریاستی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل سے ہی ممکن ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے۔
برطانوی اسپیکر نے پاکستان اور برطانیہ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی برطانوی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

