دانشگاه (نیوز ڈیسک): لاس اینجلس میں جاری مظاہروں کے بعد امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف احتجاج ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا ہے۔ رواں ہفتے کے دوران امریکہ بھر میں 30 سے زائد نئے مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ امیگریشن چھاپہ مار کارروائیوں کے خلاف عوامی ردعمل کا اظہار ہیں۔
سان فرانسسکو، سکرامینٹو، ہیوسٹن، سان انتونیو، شکاگو اور نیویارک سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ہفتے کے آخر اور پیر کے روز ان شہروں میں مظاہرین نے لاس اینجلس کے احتجاجی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ریلیاں نکالیں۔ پیر کی دوپہر تک ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں احتجاج کی کال دے دی گئی، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں اور لاس اینجلس میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی کے خلاف بڑھتے غصے کا اندازہ ہوتا ہے۔
مظاہروں کا آغاز گزشتہ ہفتے امریکی اداروں کی جانب سے کیے گئے ورک پلیس امیگریشن چھاپوں سے ہوا، مگر احتجاج نے اس وقت شدت اختیار کی جب جمعہ کے روز لاس اینجلس میں ایک مظاہرے کے دوران سروس ایمپلائز انٹرنیشنل یونین (SEIU) کیلی فورنیا کے صدر ڈیوڈ ہویئرٹا کو گرفتار کر لیا گیا۔ ICE کے مطابق ہویئرٹا پر وفاقی آپریشن میں مداخلت کا الزام ہے۔ انہیں حراست میں لینے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واقعے نے مزدور تنظیموں کو شدید مشتعل کر دیا، اور SEIU کی مختلف شاخوں نے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر دیا۔ یونین نے اسے "ہماری برادریوں پر براہِ راست حملہ” قرار دیا۔
لاس اینجلس میں مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور ان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعے سے اب تک سینکڑوں مظاہرین نے شہر کے وسطی علاقوں میں مارچ کیا، پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، بعض مظاہرین نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، عمارتوں کی توڑ پھوڑ کی اور پولیس پر اشیاء پھینکیں۔ جوابی کارروائی میں پولیس نے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور فلیش بینگ گرنیڈز استعمال کیے تاکہ ہجوم کو منتشر کیا جا سکے۔
پولیس کے مطابق اب تک کم از کم 150 افراد کو لاس اینجلس میں گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مظاہروں کی شدت میں آئندہ دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز گورنر گیون نیوسم کی اجازت کے بغیر 2000 نیشنل گارڈز لاس اینجلس بھیجنے کا حکم دیا، جس پر کیلی فورنیا کے گورنر نے اسے "ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے عدالتی چیلنج دینے کا عندیہ دیا ہے۔
SEIU کی جانب سے جاری کردہ مظاہروں کے نقشے کے مطابق نیویارک، شکاگو، سان فرانسسکو، واشنگٹن ڈی سی، فلاڈیلفیا، اٹلانٹا، بوسٹن، ڈینور، سیئیٹل، لاس ویگاس، نیو اورلینز، شارلٹ، پورٹ لینڈ، سینٹ پال اور سانتا فی سمیت درجنوں شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگرچہ مظاہرے ملک بھر میں ہو رہے ہیں، مگر ان کا مرکز اب بھی لاس اینجلس ہے، جہاں نیشنل گارڈز کے اہلکاروں کو وسطی علاقوں میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
SEIU نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا:
"ICE کی فوجی طرز کی پرتشدد کارروائیوں کی ہماری کمیونٹیز میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم تحفظ چاہتے ہیں، عزت چاہتے ہیں، اور ڈیوڈ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

