دانشگاه (نیوز ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کے پیش نظر امریکی حکومت نے تقریباً 700 میرینز کو عارضی طور پر لاس اینجلس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جب تک کہ مزید نیشنل گارڈ اہلکار موقع پر نہیں پہنچ جاتے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ردعمل میں ایک اور اہم قدم ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک بٹالین کو فی الحال عارضی ڈیوٹی پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک انسریکشن ایکٹ نافذ نہیں کیا گیا، جو فوج کو براہِ راست سول قانون نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ صورتحال مسلسل بدل رہی ہے اور فیصلے میں کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔
اگرچہ ماضی میں امریکی میرینز کو قدرتی آفات جیسے سمندری طوفان کترینا اور 11 ستمبر کے حملوں کے بعد تعینات کیا جا چکا ہے، لیکن ملک کے اندر پولیسنگ کے لیے فوج کی تعیناتی ایک غیرمعمولی اقدام ہے۔ ڈیموکریٹس نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر حالات کو بلاوجہ بگاڑنے کا الزام لگایا ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کی گرفتاری کی حمایت کریں گے، جنہوں نے ریاست میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے خلاف وفاقی حکومت پر مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گورنر نیوسم نے اس اقدام کو "غیرقانونی اور غیراخلاقی” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کو شروع ہونے والے اور ہفتے کے آخر میں پُرتشدد ہونے والے مظاہروں کے بعد نیشنل گارڈ تعینات کیے تھے۔ پیر کو انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے ایسا کرنا ضروری سمجھتے تھے۔
انہوں نے Truth Social پر لکھا: "اگر ہم نے نیشنل گارڈ تعینات نہ کیے ہوتے تو لاس اینجلس مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہوتا۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں گورنر نیوسم کی گرفتاری کا خیال اچھا لگا۔ انہوں نے کہا: "مجھے گیون پسند ہے، وہ ایک اچھا انسان ہے، لیکن وہ مکمل طور پر نااہل ہے، اور یہ سب جانتے ہیں۔”
اس کے ردعمل میں گورنر نیوسم نے کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی امریکی صدر کسی گورنر کی گرفتاری کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:
"یہ وہ لکیر ہے جسے ہم کبھی عبور نہیں کر سکتے۔ یہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی ایک واضح جھلک ہے۔ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالت جا رہے ہیں۔ یہ ایک مصنوعی بحران ہے جو وہ خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی ملیشیا پر قبضہ جمانے کے لیے پیدا کر رہے ہیں۔”
ٹرمپ انتظامیہ کے بارڈر زار، ٹام ہومین نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی امیگریشن کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالتا ہے—چاہے وہ گورنر نیوسم ہوں یا لاس اینجلس کی میئر کیرن بیس—تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا: "اگر میں ٹام ہوتا تو میں ایسا کرتا۔”
ٹرمپ نے ہفتہ کی رات 2,000 نیشنل گارڈ اہلکاروں کو لاس اینجلس بھیجنے کا حکم دیا، جو 1992 میں لاس اینجلس فسادات کے بعد اس نوعیت کا پہلا قدم تھا، جب سفید فام پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیاہ فام شہری، روڈنی کنگ پر تشدد کے بعد انہیں بری کر دیا گیا تھا۔
لاس اینجلس میں مظاہرے جمعے کو اس وقت شروع ہوئے جب امیگریشن حکام نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے اور مظاہرین کی ان سے جھڑپیں ہوئیں۔ اتوار کی شب پولیس نے پورے ڈاؤن ٹاؤن لاس اینجلس کو "غیرقانونی اجتماع” کا علاقہ قرار دے کر مظاہرین کو منتشر ہونے کا حکم دیا۔
پولیس اور وفاقی ایجنٹس نے شہر میں آنسو گیس اور غیرمہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ہزاروں افراد نے سٹی ہال، وفاقی عدالت اور امیگریشن حراستی مرکز کے باہر احتجاج کیا، جہاں پچھلے دنوں گرفتار مظاہرین کو رکھا گیا تھا۔ مظاہرین نے ایک بڑی موٹروے کو بھی بند کر دیا۔
اگرچہ دن کے بیشتر حصے میں احتجاج پرامن رہا، لیکن کشیدگی وقفے وقفے سے بڑھتی رہی۔ اتوار کی دوپہر حراستی مرکز کے قریب آنسو گیس استعمال کی گئی جبکہ شام کو مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پولیس نے مسلسل فلیش بینگ گرینیڈز استعمال کیے۔
لاس اینجلس پولیس کے مطابق ان پر آتش بازی اور پتھروں سے حملے کیے گئے۔ سان فرانسسکو میں بھی اتوار کے روز ہنگاموں کے دوران 60 سے زائد افراد—جن میں نابالغ بھی شامل تھے—گرفتار کیے گئے جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
میئر کیرن بیس اور گورنر نیوسم نے اختتام ہفتہ کے دوران پرامن احتجاج کی اپیل کی، جبکہ بیس نے کہا: "احتجاج کرنا درست ہے، لیکن تشدد درست نہیں۔”
ایل اے پولیس چیف جم میکڈونل نے تشدد کو "قابلِ نفرت” قرار دیا اور کہا کہ پرتشدد افراد، احتجاج کرنے والوں سے مختلف تھے—یہ وہ لوگ ہیں "جو ہمیشہ یہی کرتے ہیں۔”
میئر بیس نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو "لاس اینجلس کے لیے سب سے ناپسندیدہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو اس سے باز رہنے کی درخواست کی تھی۔
صدر کے دفاعی مشیر پیٹ ہیگست نے بھی پہلے میرینز کی تعیناتی کی تجویز دی تھی، جسے گورنر نیوسم نے "پاگل پن” قرار دیا۔

