تنخواہوں و پنشن میں اضافے، دفاعی بجٹ اور خسارے سے متعلق اہم تخمینے شامل
دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد :
مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی بجٹ آج منگل کے روز قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجوزہ حجم 17 ہزار 600 ارب روپے ہوگا۔ یہ گزشتہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ—جو 18 ہزار 700 ارب روپے پر مشتمل تھا—کے مقابلے میں کم ہے۔ آئندہ بجٹ میں مجموعی ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 200 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5 سے 10 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے 12.5 فیصد تک اضافے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیئرٹی الاؤنس دینے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہو سکتی ہے۔
بجٹ کے اہم تخمینوں میں 19 ہزار 400 ارب روپے کی مجموعی آمدن شامل ہے، جس میں سے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 200 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پنشن کے لیے ایک ہزار ارب، سبسڈیز کے لیے 1,186 ارب، اور گرانٹس کے لیے 1,900 ارب روپے رکھے جانے کی توقع ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ 2,550 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ نان ٹیکس آمدن کے ذرائع سے ساڑھے چار ہزار ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 60 فیصد حصہ ملنے کے بعد وفاق کے پاس خالص آمدن کے طور پر تقریباً 6 ہزار ارب روپے باقی رہیں گے، جبکہ 8 ہزار ارب روپے صوبوں کو منتقل کیے جائیں گے۔
بجٹ خسارہ 6,200 ارب سے بڑھ کر 7 ہزار ارب روپے تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے 1,000 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ تعلیم اور صحت کے لیے بالترتیب 13.58 ارب اور 14.3 ارب روپے کی رقم مختص کیے جانے کی توقع ہے۔
اقتصادی اہداف کے لحاظ سے آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر، درآمدات 65 ارب ڈالر، اور ترسیلات زر کا ہدف 39.43 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد، جبکہ افراطِ زر (مہنگائی) کی اوسط شرح کا تخمینہ 7.5 فیصد لگایا گیا ہے۔
زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کے لیے ترقی کے اہداف بالترتیب 4.5، 4.3 اور 4 فیصد مقرر کیے جا رہے ہیں۔ مجوزہ بجٹ کے مطابق وفاقی اخراجات کا مجموعی حجم 17,573 ارب روپے ہوگا، جن میں کرنٹ اخراجات (یعنی روزمرہ کے اخراجات) کا تخمینہ 16,286 ارب روپے ہے۔

