دانشگاه (نیوز ڈیسک): انڈیا ٹوڈے کے مطابق پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے کے لیے نئی دہلی کو چار خط لکھے ہیں
اسلام آباد: ایک نئے انکشاف کے مطابق، مودی سرکار نے دریائے سندھ کو دریائے راوی اور بیاس سے جوڑنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ پانی کو دریائے ستلج کے ذریعے پنجاب کے ہریکے بیراج کی طرف موڑا جا سکے، انڈیا ٹوڈے نے اپنی 8 جون کی اشاعت میں رپورٹ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا، اور اب نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی تیار کی ہے جس کا مقصد پاکستان کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسانا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق مودی حکومت نے دریائے سندھ، ستلج اور بیاس کے پانی کو پاکستان جانے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے ایک میگا کینال منصوبے کا خاکہ پیش کیا ہے جس کے تحت دریائے سندھ کو دریائے راوی اور بیاس سے جوڑا جائے گا، اور پانی کو دریائے ستلج کے ذریعے ہریکے بیراج کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ اس نہر کی لمبائی تقریباً 200 کلومیٹر ہو گی اور اس میں بارہ بڑے سرنگوں کی تعمیر شامل ہو گی۔ ان سرنگوں کے ذریعے بہنے والا پانی نہ صرف اندرا گاندھی کینال بلکہ راجستھان کی گنگا کینال سمیت دیگر نہروں میں بھی داخل ہو گا اور بالآخر دریائے جمنا تک پہنچے گا۔
انڈیا ٹوڈے مزید لکھتا ہے کہ پاکستان نے نئی دہلی کو چار خط بھیجے ہیں جن میں سندھ طاس معاہدے کی بحالی کی اپیل کی گئی ہے، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ بھارتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد جموں و کشمیر، پنجاب، ہماچل پردیش، راجستھان، ہریانہ اور اترپردیش سمیت کئی بھارتی ریاستیں دریائے سندھ کے پانی سے فائدہ اٹھائیں گی، جب کہ فاضل پانی گنگا اور جمنا دریاؤں میں شامل ہو جائے گا۔
منصوبے کی تکمیل آئندہ دو سے تین برسوں میں متوقع ہے، اور حکام کے مطابق یہ منصوبہ دریائے جمنا کو کئی مقامات پر دوبارہ زندہ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ بھارتی اخبار کے مطابق، دریائے چناب کو بھی دریائے بیاس سے جوڑنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت جسپا ڈیم کے ذریعے پانی منتقل کیا جائے گا، اور اس منصوبے کا تقریباً 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

