دانشگاه (نیوز ڈیسک)اسلام آباد: اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق، پاکستان میں دو مختلف مقامات پر واقع چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس (این پی پیز) مجموعی طور پر 3,530 میگاواٹ کی تنصیب شدہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
چشمہ کے قریب واقع چشمہ نیوکلیئر پاور جنریٹنگ اسٹیشن (CNPGS) میں چار یونٹس — C-1، C-2، C-3 اور C-4 — شامل ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 1,330 میگاواٹ ہے۔
دوسری جانب کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع کراچی نیوکلیئر پاور اسٹیشن (KNPGS) کی مجموعی صلاحیت 2,200 میگاواٹ ہے۔ اس اسٹیشن میں جدید ترین جنریشن-III ٹیکنالوجی کے حامل دو یونٹس — K-2 اور K-3 — شامل ہیں۔
پاکستان کا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ ‘کنوپ’ (KANUPP)، جس کی پیداواری صلاحیت 137 میگاواٹ تھی، اگست 2021 میں 50 سالہ خدمات کے بعد مستقل طور پر بند کر دیا گیا اور اب اس کا عملِ مسدودی (decommissioning) جاری ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق، پاکستان کے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے اوسط نرخ میں نئے تعمیر شدہ یونٹس سے متعلق قرضوں کی ادائیگی کا نمایاں حصہ شامل ہے۔ یہ ادائیگی کا دورانیہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی اقتصادی عمر کا صرف 20 فیصد یعنی 12 سال پر مشتمل ہے۔

