منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانوفاقی بجٹ آج پیش کر دیا جاۓ گیا، حجم 17.6 کھرب مقرر

وفاقی بجٹ آج پیش کر دیا جاۓ گیا، حجم 17.6 کھرب مقرر
و

دانشگاه (نیوز ڈیسک): تنخواہوں میں 7.5 سے 10 فیصد اضافے کی تجویز، پنشن بل 1.05 کھرب، سبسڈیز 1.186 کھرب اور گرانٹس 1.9 کھرب روپے مقرر

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج (منگل کو) پارلیمنٹ میں مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کریں گے، جس کا مجموعی حجم 17.6 کھرب روپے رکھا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے 18.78 کھرب روپے کے مقابلے میں کم ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس وصولی ہدف 14.02 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 12.33 کھرب روپے ہے۔ تاہم ایف بی آر کے لیے 30 جون 2025 تک اس نظرثانی شدہ ہدف کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5 سے 10 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ وزارت خزانہ نے تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے 12.5 فیصد اضافے کے چار مختلف آپشنز تیار کیے ہیں۔ تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ اضافہ 7.5 سے 10 فیصد کے درمیان محدود رکھا جائے۔ گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کے لیے 30 فیصد تک ڈسپیریٹی الاؤنس دیے جانے کا امکان ہے۔

آمدنی کے ضمن میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14.2 کھرب روپے کے قریب رکھا گیا ہے، جبکہ نان ٹیکس آمدنی 4 سے 4.5 کھرب روپے کے درمیان متوقع ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل (ایف ڈی پی) میں سے تقریباً 60 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں انہیں 8 کھرب روپے حاصل ہوں گے۔ یوں وفاق کے پاس ٹیکس آمدنی کے 6 کھرب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کے 4 سے 4.5 کھرب روپے باقی رہیں گے۔ بجٹ خسارے کو مطلوبہ حدود میں رکھنے کے لیے حکومت کو 6 سے 7 کھرب روپے کی مالیاتی گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مجموعی مالیاتی خسارے میں کمی کے لیے صوبوں کو سرپلس آمدنی پیدا کرنا ہوگی۔

آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ 2.55 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 8.2 کھرب روپے رکھی گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے 9.7 کھرب روپے سے کم ہیں۔ وفاقی حکومت کا پنشن بل 1.05 کھرب روپے، سبسڈیز 1.186 کھرب روپے اور گرانٹس 1.9 کھرب روپے طے کی گئی ہیں۔

وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ مجموعی آمدنی 19.298 کھرب روپے متوقع ہے، جس میں ایف بی آر کی ٹیکس آمدنی 14.131 کھرب روپے اور نان ٹیکس آمدنی 5.167 کھرب روپے شامل ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8.2 کھرب روپے منتقل کیے جائیں گے، جس کے بعد وفاق کے خالص محاصل 11.072 کھرب روپے رہ جائیں گے۔

کل وفاقی اخراجات 17.573 کھرب روپے متوقع ہیں، جن میں جاری اخراجات 16.286 کھرب روپے اور ترقیاتی اخراجات 1 کھرب روپے ہوں گے۔

دریں اثنا، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی پیشکش اور بحث سے متعلق آئندہ اجلاسوں کا شیڈول منظور کرلیا ہے۔

شیڈول کے مطابق بجٹ آج 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ 11 اور 12 جون کو ایوان کا اجلاس نہیں ہوگا، جبکہ 13 جون سے بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا۔ اسپیکر ایاز صادق کے مطابق قومی اسمبلی کے تمام پارلیمانی جماعتوں کو ایوان کے قواعد و ضوابط کے مطابق بجٹ پر اظہار خیال کا مناسب موقع دیا جائے گا۔

بجٹ پر عمومی بحث 21 جون تک جاری رہے گی، جبکہ 22 جون کو ایوان کا اجلاس نہیں ہوگا۔ 23 جون کو آئندہ مالی سال کے لیے چارجڈ اخراجات پر بحث کی جائے گی۔ 24 اور 25 جون کو گرانٹس اور کٹ موشنز پر بحث و رائے شماری ہوگی۔ 26 جون کو مالیاتی بل 2025 کی منظوری لی جائے گی، جبکہ 27 جون کو ضمنی گرانٹس اور دیگر متعلقہ معاملات پر بحث و ووٹنگ ہوگی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین