دانشگاه (نیوز ڈیسک): غزہ میں انسانی امداد کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ علاقے پر اسرائیلی محاصرے کے باعث تمام شہری قحط کے خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ مارچ سے خوراک، ادویات اور ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر بند ہے۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں غزہ کو "دنیا کی بھوکی ترین جگہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں ہے۔
جمعہ کے روز اقوام متحدہ نے انکشاف کیا کہ غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے 2,700 سے زائد بچوں میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی ہے، جو کہ فروری میں کی گئی جانچ کے بعد بچوں میں اس سنگین طبی حالت کی نمایاں بڑھوتری ہے۔
بین الاقوامی دباؤ کے بعد اسرائیل نے گزشتہ ماہ غزہ میں کچھ امداد داخل ہونے دی، تاہم امدادی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ یہ مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے۔
اسی دوران، اسرائیل نے غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نامی ایک نئی، نجی اور امریکہ کی حمایت یافتہ امدادی تنظیم کے ذریعے فلسطینیوں کو خوراک فراہم کرنے کی حمایت کی ہے۔
تاہم 27 مئی کے بعد سے اب تک 100 سے زائد افراد GHF کے تقسیماتی مراکز پر امداد حاصل کرنے کی کوشش میں مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے GHF کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا مؤقف ہے کہ یہ تنظیم غیر جانبدار نہیں اور اس کا تقسیماتی ماڈل فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو فروغ دیتا ہے۔

