منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیقاہرہ سے رفح ٬ غزہ مارچ کی تیاری

قاہرہ سے رفح ٬ غزہ مارچ کی تیاری
ق

دانشگاه (نیوز ڈیسک): پروگریسو انٹرنیشنل نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ دنیا کے 31 ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان، ڈاکٹرز، فنکار اور عام شہری 12 جون سے "عالمی مارچ ٹو غزہ” کے نام سے قاہرہ (مصر) سے جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع رفح تک مارچ کریں گے۔ اس مارچ کا مقصد غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنا اور عالمی اداروں پر مؤثر اقدامات کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ آٹھ روزہ مارچ "غزہ میں جاری نسل کشی کو فوری طور پر روکنے، اسرائیل پر مکمل پابندیاں عائد کرنے، اور صیہونی ریاست کی فوجی، معاشی، ثقافتی اور قبضہ گیر نظام سے مکمل بائیکاٹ” کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے عالمی اداروں پر حقیقی، مؤثر اور فوری ردِعمل دینے کے لیے دباؤ بڑھے گا—نہ کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر صرف ’نرم الفاظ میں مذمت‘ کرنے جیسا رویہ اختیار کیا جائے۔

بین الاقوامی ہیلتھ انیشی ایٹو کے رکن ڈاکٹر حسین درماز نے تصدیق کی ہے کہ مارچ 12 جون کو قاہرہ سے شروع ہوگا، 13 جون کو رفح کی جانب پیش قدمی کی جائے گی، 14 جون کو ریلیاں ہوں گی، اور 15 جون کو بڑے مظاہرے کے ساتھ اس کا نقطۂ عروج ہوگا۔ شرکاء 20 جون تک رفح کے قریب خیموں میں قیام کریں گے۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے سربراہان نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی مشترکہ مذمت کی اور کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت کی عسکری کارروائیوں کے خلاف "ٹھوس اقدامات” کریں گے، جن میں مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کے توسیعی منصوبوں سے وابستہ افراد اور تنظیموں پر پابندیاں شامل ہیں۔ برطانیہ نے عملی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت معطل کر دی ہے اور مغربی کنارے کے آبادکاروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یورپی یونین نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی ایسوسی ایشن ایگریمنٹ پر نظرِ ثانی کرے گی۔

اگرچہ یہ اقدامات مغرب کی پچھلی پالیسیوں سے انحراف ظاہر کرتے ہیں، لیکن عالمی برادری کی حالیہ مذمت کو اس بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس میں اسرائیل کے خلاف جامع پابندیاں شامل نہیں۔ پروگریسو انٹرنیشنل اس ’غیر مؤثر ردِعمل‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی حمایت میں متحرک ہو چکی ہے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اسرائیل کو جواب دہ بنانے کے لیے قابلِ عمل اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے اب تک غزہ میں خوراک، طبی امداد اور دیگر انسانی سامان کی ترسیل مکمل طور پر بند کر رکھی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسے "دو ملین افراد کو جان بوجھ کر بھوکا مارنے کی کوشش” قرار دیا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق 171,000 میٹرک ٹن خوراک — جو دو ملین افراد کو تین سے چار ماہ تک کھلا سکتی تھی — غزہ کی سرحد پر رکی ہوئی ہے اور اندر جانے نہیں دی جا رہی۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ محاصرہ صرف اس صورت میں ختم ہوگا جب دنیا کے ممالک اسرائیل سے سفارتی اور معاشی تعلقات مکمل طور پر ختم کریں گے۔ ’عالمی مارچ ٹو غزہ‘ اسی مطالبے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور مصری حکام سے رفح بارڈر کھولنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ایک شریک تنظیم کی ترجمان روشن دادو کا کہنا ہے کہ مارچ میں شرکت کرنے والے ہر شخص کی واپسی کے بعد یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے ملکوں میں حکومتوں اور اداروں سے مطالبہ کریں کہ وہ اسرائیل پر ہتھیاروں، تجارت، توانائی، کھیل، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں مکمل بائیکاٹ اور پابندیاں عائد کریں، تاکہ نسل کشی میں ملوث ریاست کو اقتصادی طور پر نقصان پہنچایا جا سکے۔

مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ‘عالمی مارچ ٹو غزہ’ ایک "غیر وابستہ، غیر سیاسی اور عوامی تحریک ہے” جو "انسانیت، تنوع اور عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔” پروگریسو انٹرنیشنل نے مصری حکام سے اس پُرامن اور شہری اقدام کے لیے اجازت کا انتظار کیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین