دانشگاه (نیوز ڈیسک) : کینیڈا میں صیہونی تنظیم جیوئش نیشنل فنڈ (JNF) کی شاخ کو بالآخر "رجسٹرڈ چیریٹی” کا درجہ کھونے کے بعد بندش کا سامنا ہے، کیونکہ کینیڈین وفاقی عدالت نے اس کی آخری قانونی اپیل مسترد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ 30 مئی کو سنایا گیا، جس میں حکومتی اقدام کی توثیق کرتے ہوئے JNF-کینیڈا کا فلاحی درجہ ختم کر دیا گیا، اور تنظیم کو 57 سالہ سرگرمیوں کے بعد اپنا کام سمیٹنے پر مجبور کر دیا گیا۔
یہ اقدام JNF کے لیے ایک اہم قانونی اور سیاسی دھچکا ثابت ہوا، جس پر طویل عرصے سے کینیڈین ٹیکس سے حاصل کردہ عطیات کو اسرائیلی فوجی منصوبوں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے جُڑے منصوبوں میں صرف کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
کینیڈا ریونیو ایجنسی (CRA) نے اگست 2024 میں پہلی بار JNF کی چیریٹی حیثیت منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، اور اس کی وجہ بیرونِ ملک فنڈنگ میں قوانین کی خلاف ورزی قرار دی گئی تھی۔
تنظیم نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا، مگر 30 مئی کے عدالتی فیصلے نے CRA کے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے JNF کی قانونی حیثیت مستقل طور پر ختم کر دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد JNF-کینیڈا اب "رجسٹرڈ چیریٹی” کے طور پر قانونی طور پر کام نہیں کر سکتا، جس سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متنازع منصوبوں کے لیے کینیڈا سے ملنے والی مالی معاونت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور فلسطینی حامی گروہ طویل عرصے سے اس فنڈ کی مذمت کرتے آئے ہیں کہ یہ اسرائیلی فوج کی معاونت اور فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے عطیات استعمال کرتا ہے۔
تنظیم پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ "سبز کاری” (Greenwashing) جیسے حربے استعمال کرتی ہے، یعنی فلسطینی دیہات کو مسمار کرکے ان پر جنگلات لگا دیے جاتے ہیں تاکہ تاریخ اور جبری بے دخلی کے نشانات مٹا دیے جائیں۔
اگرچہ JNF خود کو ماحولیاتی اور اراضی کی ترقی سے جُڑی ’فلاحی تنظیم‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق اس کی سرگرمیاں درحقیقت مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو مضبوط بنانے اور فلسطینی شناخت کو مٹانے کی کوششیں ہیں۔
1901 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ صیہونی تحریک کے لیے تاریخی فلسطین میں زمین پر قبضے اور آبادکاری کی مرکزی قوت رہا ہے۔
1948 کی نکبہ (یعنی فلسطینیوں کی اجتماعی جبری بے دخلی) سے پہلے اور بعد کے عرصے میں JNF نے اسرائیلی حکومت کے غیر قانونی آبادکاروں کے لیے زمین حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
حالیہ دہائیوں میں یہ ادارہ اسرائیلی حکومت کا نیم سرکاری بازو بن چکا ہے، جبکہ بیرونِ ملک خود کو نجی "چیریٹی ادارے” کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے اسے بین الاقوامی قوانین کے دائرے سے باہر رہ کر تل ابیب کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کا موقع ملا ہے — جن میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور فوجی تربیت کے منصوبے شامل ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر JNF پر شفافیت کی کمی اور اسرائیل نواز پالیسی اپنانے پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔
برطانیہ میں بھی JNF کی سرگرمیوں پر تحقیقات ہو چکی ہیں، جہاں یو کے چیریٹی کمیشن نے اس کے فوجی روابط اور غیر ملکی ریاست سے سیاسی وابستگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
JNF-یوکے سے وابستہ بعض سینئر شخصیات کے اسلام مخالف بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن پر عوامی سطح پر تنقید اور باقاعدہ تحقیقات کی گئی ہیں۔
ان تنازعات کے باوجود، یہ ادارہ مغرب کی متعدد اہم سیاسی شخصیات کی حمایت سے مستفید ہوتا رہا ہے، جن میں بعض سابق برطانوی وزرائے اعظم اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ کینیڈین عدالت کا حالیہ فیصلہ JNF کی بین الاقوامی سرگرمیوں کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا قانونی چیلنج ہے، جو دیگر ممالک کے لیے بھی نظیر بن سکتا ہے — خاص طور پر ان تنظیموں کے خلاف جو "چیریٹی” کی آڑ میں سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔

