منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں اسرائیلی قتل عام کے دوران فلسطینی مزاحمتی رہنماء ابو شریعہ...

غزہ میں اسرائیلی قتل عام کے دوران فلسطینی مزاحمتی رہنماء ابو شریعہ شہید
غ

دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ: ایک سینئر فلسطینی مزاحمتی رہنما کو تقریباً 30 دیگر افراد کے ساتھ اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں قتل عام کے دوران شہید کر دیا گیا، جو کہ تل ابیب کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ کا حصہ ہے۔

مختلف مزاحمتی میڈیا اداروں نے ہفتہ کے روز اس خبر کی تصدیق کی اور شہید رہنما کی شناخت اسعد ابو شریعہ المعروف ابو الشیخ کے طور پر کی، جو فلسطینی مجاہدین موومنٹ کے سیکریٹری جنرل اور بانی اراکین میں سے ایک تھے۔

تحریک نے ایک بیان میں اس واقعے کی تصدیق کی، اور بتایا کہ شہید رہنما اس گروپ کے عسکری ونگ "مجاہدین بریگیڈز” کے سربراہ بھی تھے۔ تحریک نے ایک اور شہید کی شناخت احمد ابو شریعہ المعروف ابو فلسطین کے طور پر کی، جو نہ صرف اسعد کے بھائی تھے بلکہ تنظیم کے ایک اور اعلیٰ سطح کے رکن بھی تھے۔

’عظیم رہنما، مفکر اور مجاہد‘

تحریک نے ابو شریعہ کو ایک "عظیم رہنما اور مفکر” قرار دیا، جو شہادت سے قبل کم از کم پانچ قاتلانہ حملوں سے محفوظ رہے تھے۔ تنظیم نے ان کی شہادت کو "بزدلانہ” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ابو شریعہ فلسطین میں جہاد اور مزاحمت کے ستونوں میں سے ایک اور امتِ مسلمہ میں اسلامی منصوبے کے اہم معماروں میں سے تھے۔

’اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچایا‘

تحریک کے مطابق، شہید رہنما نے 2001 میں تحریک کے قیام کے بعد سے غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کئی "بہادرانہ” مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت کی یا ان میں براہ راست حصہ لیا۔

سب سے اہم بات یہ کہ ابو شریعہ نے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے تاریخی آپریشن "طوفان الاقصیٰ” میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

اس آپریشن میں مزاحمتی جنگجو مقبوضہ علاقوں کے اندر گہرائی تک داخل ہوئے، اسرائیلی فوجی اڈوں کو گھیرے میں لیا، اور سینکڑوں صہیونیوں کو قیدی بنا لیا۔

تحریک کے بیان میں کہا گیا کہ ان کی مجموعی شمولیت نے "فاسد دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔”

بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیلی حملوں میں اپنے خاندان کے 155 افراد کو کھو دینے کے باوجود وہ اسرائیل مخالف جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

دشمن کے لیے انتباہ

ادھر، تحریک نے ابو شریعہ کی شہادت سمیت اسرائیلی جرائم کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔

تحریک نے شہید رہنما کے اصولوں سے وفاداری کو "ہماری عہد اور بہادر مجاہدین کی گردنوں پر امانت” قرار دیا۔

حماس، جو غزہ کی سب سے بڑی مزاحمتی تحریک ہے، نے اس سانحے پر فلسطینی عوام، امت مسلمہ، اور دنیا بھر کے آزاد ضمیر لوگوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔

حماس نے شہید رہنما کی مزاحمت کے راستے میں مسلسل قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

ساتھ ہی، حماس نے یہ واضح کیا کہ ایسے وحشیانہ جرائم نہ تو مزاحمت کا حوصلہ توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی فلسطینی قوم کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں، بلکہ یہ جدوجہدِ آزادی اور مقدسات کے دفاع کی راہ میں ان کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین