دانشگاه (نیوز ڈیسک) صنعا : معروف فوجی ماہر اور تجزیہ کار میجر جنرل خالد غراب نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر کی لڑائی نے امریکی اور یورپی افواج کو بری طرح تھکا دیا اور واشنگٹن کو یمنی قوت کے حجم اور مہارت کا اندازہ نہ تھا، جس کے باعث وہ حیرت زدہ رہ گیا۔
اتوار کی صبح المسیرہ ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جنرل غراب نے کہا کہ امریکہ یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ یمنیوں کو آسانی سے زیر کر کے غزہ کے لیے ان کی فوجی حمایت کو روک دے گا، لیکن امریکی حکام نے خود تسلیم کیا کہ واشنگٹن کو دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی نوعیت کی سب سے سنگین بحری محاذ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یمن نے امریکہ کو ایسی گہری عسکری سبق آموزی دی جس کے نتیجے میں اسے اپنی جارحیت جلد ختم کر کے عزت بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا۔
انہوں نے امریکی نائب صدر وینس کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ "امریکی غلبے کا دور ختم ہو چکا ہے”—جو ان کے بقول بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کی شکست کا واضح اعتراف ہے، جس میں امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر ختم ہوئے اور اہلکار شدید تھکن کا شکار ہو گئے۔
غراب نے کہا کہ بائیڈن اور "پاگل ٹرمپ” کے ادوار میں امریکی قومی سلامتی کی رپورٹوں میں خبردار کیا گیا تھا کہ یمن کے ساتھ بحری محاذ آرائی نہ کی جائے کیونکہ اس کے خطرات اور لاگت بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ یمنی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے 20 لاکھ سے 40 لاکھ ڈالر تک کے میزائل استعمال کر رہا تھا، جبکہ وہ ڈرون محض 4 ہزار ڈالر یا بعض صورتوں میں صرف ایک ہزار ڈالر میں تیار کیے گئے تھے، جن کا مقصد محض الجھن پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آئزن ہاور کے عملے کو بحیرہ احمر میں خدمات جاری رکھنے کے لیے ان کی تنخواہیں 8 ہزار سے بڑھا کر 15 ہزار ڈالر ماہانہ کر دی گئی تھیں، کیونکہ نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا اور عملے میں خودکشیوں کی لہر چھپائی جا رہی تھی۔
یورپی موجودگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں یورپی فوجی موجودگی صرف دفاعی نوعیت کی تھی۔ جب یمنی فورسز نے ایک ڈینش فریگیٹ کو نشانہ بنایا اور وہ ناکارہ ہو گئی، تو ڈنمارک کے فضائیہ کے سربراہ کو برطرف کر دیا گیا اور اس واقعے کے بعد یورپی ممالک ایک ایک کر کے وہاں سے پیچھے ہٹ گئے۔
میجر جنرل غراب نے کہا کہ امریکہ یمنی فوجی ترقیات کا سامنا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ یمن نے نہ صرف امریکی قوتوں کو پچھاڑا بلکہ اپنے ہتھیاروں کے نظام کو جدید بنا کر، پیش رفت کر کے اور اعلیٰ درجے کی ڈرون ٹیکنالوجی اور حربی منصوبہ بندی سے امریکی افواج کو حیران و پریشان کر دیا، حتیٰ کہ آئزن ہاور اور ٹرومین جیسے بحری جہازوں کو بھی ریٹائر کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ 2023 کے آخر سے یمن خطے میں اسرائیل کے خلاف مزاحمتی محاذ کے ایک مرکزی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ یمنی مسلح افواج نے غزہ کی حمایت کے عنوان سے اسرائیلی مفادات اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل، ڈرون اور بحری حملوں کی مسلسل مہم شروع کی، جس سے بحیرہ احمر میں جہازرانی بری طرح متاثر ہوئی اور امریکی بحری تسلط کو چیلنج ملا۔
اگرچہ امریکہ نے یمنی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے کئی بار فضائی حملے کیے، مگر یمن نے مسلسل مزاحمت دکھائی۔ سستے مگر مؤثر ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے یمن نے امریکی وسائل کو بری طرح کھپایا، جس کے نتیجے میں پینٹاگون کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑی۔ آئزن ہاور اور ٹرومین جیسے طیارہ بردار بحری جہاز آخرکار عملے کی تھکن، نفسیاتی دباؤ اور اسٹریٹجک ناکامیوں کے باعث واپس بلا لیے گئے۔
یمن کی یہ مہم نہ صرف مغربی بحری طاقت کی کمزوریوں کو آشکار کرتی ہے بلکہ یہ خطے میں عسکری توازن کی تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔ یورپی افواج، جو ابتدا میں امریکی قیادت میں اتحاد کا حصہ تھیں، براہ راست حملوں اور اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث بتدریج پیچھے ہٹ گئیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تصادم دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی بحری محاذ آرائی تصور کیا جا رہا ہے۔

