دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ:
اسرائیلی امور کے ماہر اور فلسطینی سیاسی تجزیہ کار سہیل خلیلہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی جانب سے ہونے والی عسکری کارروائیوں نے صہیونی ریاست پر گہرا اور ناقابل انکار اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے المنصرہ ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ یمنی مسلح افواج کے اقدامات صرف صہیونی معیشت پر حملے نہیں بلکہ قبضے کے ڈھانچے—سیاسی، عسکری، سماجی اور ابلاغی سطح پر—براہِ راست ضربیں ہیں۔
خلیلہ نے وضاحت کی کہ یمنی کارروائیوں نے اس نظام کو متزلزل کر دیا ہے جسے قابض ریاست نے ایک صدی میں تعمیر کیا تھا تاکہ اپنی شبیہہ بنائے اور عالمی سیاسی راہداریوں میں اثر و رسوخ قائم رکھے۔ یہ شبیہہ، ان کے مطابق، پلک جھپکتے میں بکھر گئی اور آج دشمن یمن سے آنے والے میزائلوں اور حملوں کے دباؤ تلے زندگی گزار رہا ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ صہیونی ریاست بحیرہ احمر اور بحیرہ روم میں جاری عسکری کارروائیوں کے باعث عالمی معیشت کی ابتری کی بھی ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابض ریاست نے ایک پوری دہائی کی کامیابیاں کھو دی ہیں اور اب اس کی ساکھ، وقار اور سفارتی حیثیت زمین بوس ہو چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صہیونی ریاست سے وابستہ ممالک کے لیے یہ اتحاد ایک بھاری قیمت کا باعث بنے گا، اور آئندہ برسوں میں اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔
یاد رہے کہ 2023 کے اواخر سے یمنی مسلح افواج نے خطے میں اپنی عسکری کارروائیوں میں نمایاں شدت پیدا کی ہے، جو اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے جواب اور فلسطینی کاز سے اظہار یکجہتی کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کارروائیوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، ڈرون حملے اور بحری تصادم شامل ہیں جن کا ہدف اسرائیلی اور امریکہ سے وابستہ اثاثے رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں کارروائیاں لُد ہوائی اڈے پر میزائل حملے جیسے اقدامات ہیں، جن سے فضائی سفر متاثر ہوا، بڑے پیمانے پر انخلاء کی صورتحال پیدا ہوئی اور اسرائیل کے داخلی سلامتی کے نظام پر دباؤ بڑھا۔
ان کارروائیوں کے محض عسکری اثرات سے ہٹ کر علامتی اور تزویراتی پہلو بھی نمایاں ہوئے ہیں، جنہوں نے اسرائیلی ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو چیلنج کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے اس بیانیے کو کمزور کیا ہے جو اسرائیل نے دہائیوں میں سیاسی، عسکری اور میڈیا سطح پر تیار کیا تھا۔ یمن، لبنان اور غزہ سمیت مزاحمتی محاذوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری ہم آہنگی نے خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا ہے اور صہیونی ریاست کی طویل عرصے سے قائم دفاعی بازدار صلاحیتوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

