تحریر: ایوان کیسک
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 80ویں نشست کے لیے سابق جرمن وزیر خارجہ اور معروف صیہونی حامی انا لینا بیئربوک کے بلا مقابلہ انتخاب نے عالمی سطح پر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔
انسانی حقوق کے علمبرداروں اور فلسطین کے حامیوں نے بیئربوک کے تقرر کو فلسطینی عوام، بالخصوص عورتوں اور بچوں پر جاری اسرائیلی-امریکی نسل کشی کے متاثرین کی توہین قرار دیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں اب تک 54 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
سابق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق افسر اور ماہرِ قانون کریگ مخبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے ردِعمل میں کہا:
"اقوامِ متحدہ کا قیام جرمن جنگی مجرموں کی مخالفت میں عمل میں آیا تھا، مگر آج اس نے ایک جرمن جنگی مجرم کو اپنی تباہی کی نگرانی کا عہدہ دے دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"80 سال بعد، رائش نے انتقام لے لیا — بیئربوک UNGA کی صدارت سنبھال رہی ہیں، ایسے وقت میں جب وہ ایک نسل کشی کی بھرپور حمایت کر چکی ہیں۔”
یہ تبصرہ نازی جرمنی کی جنگی بربریت کی تاریخی یاد دہانی ہے، جس کے بعد عالمی قیادت نے 1945 میں اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی تھی، تاکہ آئندہ ایسی ہولناکیاں نہ دہرائی جائیں۔
بیئربوک، جو جرمن گرین پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، ستمبر 2025 سے ایک سال کے لیے جنرل اسمبلی کی صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ یہ انتخاب 2 جون 2025 کو عمل میں آیا جہاں وہ بلا مقابلہ کامیاب ہوئیں اور 193 میں سے 167 ممالک کی حمایت حاصل کی۔ ان کی رسمی تقریبِ حلف برداری 9 ستمبر کو متوقع ہے۔
اگرچہ یہ عہدہ بڑی حد تک رسمی نوعیت رکھتا ہے، تاہم اس کے تحت صدر کو اجلاسوں کی صدارت، سفارتی مشاورت میں رہنمائی، اور تمام ارکان کی آواز سنے جانے کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
بیئربوک کی نامزدگی جرمن حکومت، جس کی قیادت چانسلر اولاف شولز کر رہے ہیں، کی جانب سے اس وقت عمل میں آئی جب گرین پارٹی کو فروری 2025 کے انتخابات کے بعد نئے حکومتی اتحاد سے باہر کر دیا گیا۔
عالمی سطح پر تنقید اور مذمت
فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیز نے بیئربوک کی اکتوبر 2024 کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی بنیادی باریکیوں کو نظر انداز کیا، خاص طور پر جب بات شہری علاقوں پر بمباری کی ہو۔
صحافی افشین رتّانسی نے کہا:
"بیئربوک نے اسکولوں اور معصوم فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کی پُرجوش حمایت کی اور اسے حماس کو نشانہ بنانے کے طور پر جواز دیا۔”
انہوں نے مزید لکھا:
"ایک ایسی شخصیت کا UNGA کی صدارت سنبھالنا جو جنگی جرائم میں ملوث ہو، عالمی نظم و انصاف کے لیے مذاق ہے۔”
برطانوی کارکن سارہ وِلکنسن نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا:
"یہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قانون کے لیے تباہی ہے کہ بیئربوک، جو #غزہمیںنسل_کشی کی حامی رہی ہیں، اب جنرل اسمبلی کی صدر بنیں گی۔”
"غزہ میں نسل کشی کی معاون”
دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے بیئربوک پر دہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے — اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا اور ساتھ ہی فلسطینیوں کو تھوڑی بہت امداد دینا۔ برلن میں مظاہرین نے جرمنی پر "اسرائیل کو ہتھیار اور پیسہ دینے” کا الزام لگایا، اور فلسطینیوں کے لیے بھیجی گئی امداد کو "خون آلود ہاتھ دھونے کی کوشش” قرار دیا۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی مظالم پر لب کشائی سے گریز کیا، جبکہ گرین پارٹی کو ردّعمل پسند پالیسیوں کی جانب لے گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، بیئربوک نے فلسطینی علاقوں کے چھ دورے کیے، لیکن اسرائیلی جارحیت پر ان کا ردِعمل نہایت نرم رہا۔
اکتوبر 2024 میں جرمن سیاسی جماعتوں MERA25 اور DiEM25 نے ایک پٹیشن جاری کی، جس میں بیئربوک سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ پٹیشن میں انہیں "نسل کشی اور نسل پرستی” میں شریک جرم قرار دیا گیا اور اقوامِ متحدہ اور لیمکن انسٹیٹیوٹ کی رپورٹوں کو نظر انداز کرنے پر تنقید کی گئی، جن میں اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
بیئربوک کی "فیمینسٹ خارجہ پالیسی” کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جسے ناقدین نے فلسطینی خواتین کی تذلیل اور جرمنی کی عالمی ساکھ پر دھبہ قرار دیا۔
عالمی سفارت کاری میں تضاد
مارچ 2024 میں امریکی تھنک ٹینک کارنیگی اینڈاؤمنٹ نے کہا کہ بیئربوک کے تحت جرمنی کی اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت نے اسے عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا، اور یہ حمایت نہ تو بین الاقوامی قانون سے مطابقت رکھتی ہے، نہ جمہوری اقدار سے۔
بیئربوک پر "تائیٹر-اوپفر-اومکیر” یعنی مجرم-مظلوم کی الٹ پھیر کا الزام بھی عائد کیا گیا — جس کے مطابق انہوں نے اسرائیلی مظالم کو جواز فراہم کیا، اور فلسطینیوں کو نظرانداز کیا۔
انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد پر صرف "عدالتی کارروائی” کی اپیل کی، لیکن اسرائیل کے خلاف پابندیوں کی حمایت نہ کی، جبکہ اسی دوران جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات میں 2022 کے مقابلے میں دس گنا اضافہ کر دیا۔
ان کی ایران مخالف پالیسی، اور اسرائیل اور مزاحمتی اتحاد کے خلاف سخت موقف کو بھی "علاقائی جنگ بھڑکانے” کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

