منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیایران کا ایٹمی ہتھیاروں سے انکار، مذہبی اصولوں کا حوالہ

ایران کا ایٹمی ہتھیاروں سے انکار، مذہبی اصولوں کا حوالہ
ا

دانشگاه (نیوز ڈیسک) قاہرہ — ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں کیونکہ یہ اس کے مذہبی عقائد اور اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے فتویٰ کے منافی ہے۔

انہوں نے یکم جون کو مصر کے "النیل نیوز نیٹ ورک” کو دیے گئے انٹرویو میں کہا:
"ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی خواہش نہیں، کیونکہ یہ معاملہ ہمارے عقیدے سے جڑا ہوا ہے۔”

عراقچی نے وضاحت کی کہ رہبر انقلاب نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کو حرام قرار دیا ہے اور چونکہ ایران ایک مذہبی قوم ہے، اس فتویٰ سے انحراف ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران مسلسل مذاکرات اور بات چیت میں مصروف ہے تاکہ دنیا کو اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کا یقین دلایا جا سکے۔
"اگر کوئی سوال یا تحفظات ہیں تو ہم انہیں اعتماد سازی کے ذریعے دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

عراقچی نے زور دیا کہ ایران سفارت کاری کے راستے پر قائم رہے گا اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا:
"یہ اقدام صہیونی حکومت کے ان دعوؤں کو غیر مؤثر بنائے گا جو وہ ایران کے بارے میں کرتی ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور کسی ملک یا فریق کے لیے خطرہ نہیں، جبکہ اسرائیل خود درجنوں ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے مگر ایران پر الزامات لگاتا ہے۔

بحر احمر کی حالیہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے عراقچی نے کہا:
"بحر احمر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل یمنی عوام کی غزہ کے ساتھ حمایت ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس موجود معلومات کے مطابق جن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا وہ یا تو اسرائیلی ملکیت کے تھے یا اسرائیلی مقامات کی طرف جا رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی انصار اللہ تحریک اور امریکہ کے درمیان ایک وقتی جنگ بندی کے باعث خطے میں "نسبتاً استحکام” پیدا ہوا ہے۔

عراقچی نے کہا:
"خطے کی تمام مشکلات کی جڑ صہیونی حکومت ہے، اور بحر احمر کی موجودہ صورت حال بھی فلسطینیوں کے خلاف اس کے جرائم کا ایک نتیجہ ہے۔”

مقامی صحت حکام کے مطابق، اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے نتیجے میں اب تک غزہ میں 54,381 فلسطینی شہید اور 124,054 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے عرب ممالک کے ساتھ مضبوط اور تعمیری تعلقات قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا:
"لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ صہیونی پروپیگنڈا ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ اصل خطرہ خود وہ حکومت ہے۔”

انہوں نے عرب ممالک کو "دوست، ہمسایہ اور مسلمان بھائی” قرار دیا اور کہا کہ ایران کی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پڑوسیوں سے حسنِ سلوک اور علاقائی تعاون کے فروغ پر مبنی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین