دانشگاه (نیوز ڈیسک) صنعا — یمنی مسلح افواج نے غزہ کی محصور پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ اسرائیلی علاقوں میں اسٹریٹجک اہداف پر تازہ میزائل حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح مقبوضہ علاقوں کے وسطی حصوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ اسرائیلی آبادکاروں میں شدید خوف و ہراس کا باعث بنا، اور ہزاروں افراد کو بم شیلٹرز میں پناہ لینا پڑی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل یمنی فوج نے تل ابیب کے جنوب مشرق میں واقع بین گوریون ایئرپورٹ پر "ہائپر سونک بیلسٹک میزائل حملے” کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے جمعرات کی شب المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا:
"یہ کارروائی غزہ میں بھوک اور پیاس پر مبنی (اسرائیلی) جرم اور بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں پر دشمن کی جارحیت کے ردِعمل میں کی گئی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"ہم غزہ کے ساتھ اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک جارحیت اور محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔”
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ بین گوریون ایئرپورٹ کے نزدیک علاقوں سمیت بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے کی متعدد بستیوں میں سائرن بجائے گئے، جس کے بعد شہریوں کو محفوظ مقامات اور پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے یمن سے فائر کیا گیا ایک میزائل روک لیا۔
بدھ کے روز بھی یمنی فوج نے بین گوریون ایئرپورٹ کی سمت دو ڈرون حملے کیے تھے۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ کے جواب میں یمنی فورسز نے ایک منظم سمندری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل کو فوجی رسد کی فراہمی روکنا اور عالمی برادری کو غزہ میں انسانی بحران کی سنگینی کا احساس دلانا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ، یمن نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں کئی میزائل اور ڈرون حملے کیے تاکہ فلسطینیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے، جو پچھلے 20 ماہ سے وحشیانہ جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
یمنی مسلح افواج واضح کر چکی ہیں کہ جب تک اسرائیل غزہ میں اپنی زمینی اور فضائی کارروائیاں بند نہیں کرتا، ان کی مزاحمتی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسرائیل کی تباہ کن جنگ کے نتیجے میں اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

