دانشگاه ( نیوز ڈیسک ) خرطوم: سوڈان نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے)، جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے، میں متحدہ عرب امارات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ خرطوم کا مؤقف ہے کہ امارات دارفور میں جاری ’نسل کشی‘ کی محرک قوت ہے۔
سنہ 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اقتدار کی کشمکش نے ملک کو خانہ جنگی میں جھونک دیا ہے۔ اب خرطوم نے الزام عائد کیا ہے کہ امارات RSF کی پشت پناہی کر کے دارفور میں غیر عرب نسل کے مسالیت قبائل کی نسل کشی میں ملوث ہے۔
جمعرات کو ہیگ میں عالمی عدالت کے سامنے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران سوڈان کے قائم مقام وزیر انصاف معاویہ عثمان نے عدالت کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات بغاوت کرنے والے عناصر کو اسلحہ فراہم کر کے اس ’نسل کشی‘ میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا: ’’یہ جاری نسل کشی متحدہ عرب امارات کی شراکت اور RSF کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بغیر ممکن ہی نہ ہوتی۔‘‘
معاویہ عثمان نے مزید کہا: ’’متحدہ عرب امارات کی طرف سے RSF کو جو براہِ راست لاجسٹک اور دیگر امداد فراہم کی گئی اور کی جا رہی ہے، وہی اس نسل کشی کی بنیادی قوت ہے، جس میں قتل عام، جنسی زیادتی، جبری نقل مکانی اور لوٹ مار شامل ہے۔‘‘
سوڈانی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ امارات فوری طور پر RSF کی حمایت بند کرے اور متاثرین کو معاوضہ سمیت مکمل ازالہ فراہم کرے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے RSF کی حمایت کے الزام کی تردید کی ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار ریم کتیت نے ایک بیان میں کہا: ’’سوڈان کے دعوؤں کی حمایت میں کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔‘‘
انہوں نے سوڈانی درخواست کو ’’ایک معزز بین الاقوامی ادارے کا صریح غلط استعمال‘‘ اور ’’قانونی اور عملی بنیادوں سے عاری‘‘ قرار دیا۔

