دانشگاہ (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ : یمن کی جانب سے قابض ریاست کے ہوائی اڈے پر فضائی پابندی کے بعد بین الاقوامی ایئرلائنز کی جانب سے اسرائیل کے لیے پروازوں کی معطلی کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، اٹلی کی قومی ایئرلائن "آئی ٹی اے” نے 31 جولائی تک مقبوضہ علاقوں کے لیے ہزاروں پروازوں کے ٹکٹ منسوخ کر دیے ہیں۔
چینل نے مزید اطلاع دی کہ ایئر انڈیا نے بھی اسرائیل کے لیے اپنی پروازوں کی بحالی کو کم از کم یکم جولائی تک مؤخر کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یمنی فوج نے غزہ کے حق میں اپنی کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے قابض ریاست کے ہوائی اور بحری راستوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد کئی بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اسرائیل کے لیے پروازوں کو معطل کر دیا ہے۔
حال ہی میں یمنی مسلح افواج نے مقبوضہ یافا کے لُد ایئرپورٹ کو ہائپر سونک بیلسٹک میزائل "فلسطین-2” سے نشانہ بنانے کی ایک اعلیٰ سطحی فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔
جمعرات کی شام جاری کیے گئے بیان میں یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ کارروائی اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں لاکھوں صیہونی آبادکاروں کو پناہ گاہوں کی جانب فرار ہونا پڑا اور ایئرپورٹ پر فضائی آمدورفت معطل ہو گئی۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے یمنی افواج نے فلسطینی کاز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اپنی علاقائی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں ڈالنا شامل ہے، جو براہِ راست اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بیان میں یمنی عوام اور ان کی مسلح افواج کی جانب سے فلسطینی عوام اور مزاحمت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی اور غزہ کا محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا، یمنی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

