جمعے کے روز غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نے اعلان کیا کہ تمام امدادی مراکز تا حکمِ ثانی بند کر دیے گئے ہیں، حالانکہ علاقے میں بھوک اور قحط کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ GHF نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ مراکز کی دوبارہ کھولنے سے متعلق معلومات بعد میں دی جائیں گی اور لوگوں کو "اپنی حفاظت کی خاطر” امدادی مراکز سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
تاہم بعد میں GHF کی طرف سے جاری کردہ ایک متضاد بیان میں کہا گیا کہ دو مراکز نے جمعے کو یومیہ خوراک کی تقسیم مکمل کی اور صرف ایک دن میں 4 لاکھ 71 ہزار سے زائد کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔
ادھر، امدادی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے مارچ سے جاری سخت ناکہ بندی کے بعد غزہ کے تمام رہائشی قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی دباؤ پر اسرائیل نے گزشتہ ماہ کچھ امداد داخل ہونے کی اجازت دی تھی، لیکن امدادی تنظیموں کے مطابق یہ مقدار ناکافی ہے۔
GHF کے مراکز کی سرگرمیاں گزشتہ ہفتے کے دوران اُس وقت روک دی گئیں جب اسرائیلی افواج نے امداد کے منتظر فلسطینیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔
اسرائیلی فوج نے کل ایک نئی وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک (03:00 تا 15:00 GMT) کسی بھی امدادی مقام کے قریب آنے کی صورت میں "شدید خطرے” کا سامنا ہو گا۔
ان تمام واقعات نے نہ صرف امدادی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ غزہ کے شہریوں کو ایک اور انسانی المیے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں نہ خوراک ہے، نہ تحفظ، اور نہ ہی کوئی واضح راہِ نجات۔

