منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان کی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت، تل ابیب کو...

پاکستان کی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت، تل ابیب کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ
پ

پاکستان کی بیروت اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی غیر مبہم مذمت، تل ابیب کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ

اسلام آباد:
پاکستان نے جمعہ کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت اور جنوبی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کی غیر مبہم اور شدید مذمت کی ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تل ابیب کو فوری طور پر جوابدہ ٹھہرائے اور ان حملوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا:

"عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل کیے گئے یہ حملے بین الاقوامی قوانین، لبنان کی خودمختاری، اور نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔”

الجزیرہ اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق، یہ حملہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، اور یہ نومبر کی جنگ بندی کے بعد بیروت پر اسرائیل کا چوتھا فضائی حملہ ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے ان حملوں کو "اسرائیلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ "عید سے ایک دن قبل کیا گیا یہ حملہ بین الاقوامی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔”

بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے لبنانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"اس طرح کا غیرذمہ دارانہ طاقت کا استعمال نہ صرف بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے اور پائیدار امن کے لیے جاری کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔”

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ حملے لبنان کی خودمختاری اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

ترجمان نے کہا:

"ہم اقوام متحدہ اور جنگ بندی کے ضامن اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کو جوابدہ بنائیں اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔”

پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ امن، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں پر قائم رہے گا۔

دوسری جانب، لبنانی وزیرِاعظم نواف سلام نے جمعرات کو اعلان کیا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی 500 سے زائد عسکری چوکیاں اور اسلحہ ڈپو لبنانی فوج نے ختم کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا:

"جب تک اسرائیل کی روزانہ کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ہماری زمینوں پر قبضہ برقرار رہے گا، اور ہمارے قیدی رہا نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک نہ تو سلامتی ممکن ہے نہ استحکام۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین