منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیرہبر انقلاب کا پیغام: مسلم ممالک صیہونی حکومت کی ہر قسم کی...

رہبر انقلاب کا پیغام: مسلم ممالک صیہونی حکومت کی ہر قسم کی امداد بند کریں
ر

رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے سالانہ حج پیغام میں مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جاری صیہونی مظالم کو روکنے کے لیے اس غاصب حکومت کی ہر قسم کی امداد بند کریں۔

جمعرات کے روز جاری کیے گئے پیغام میں انہوں نے دنیا بھر سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے لاکھوں عازمین حج سے اپیل کی کہ وہ غزہ اور مغربی ایشیا میں جاری تباہیوں کے تناظر میں اپنی حکومتوں سے عملی اقدام کا مطالبہ کریں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ قابض و مجرم صیہونی حکومت نے غزہ کے سانحے کو ’’ناقابلِ یقین حد تک‘‘ پہنچا دیا ہے، جہاں وحشیانہ ظلم اور سفاکی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ان جرائم میں ’’یقینی شریک‘‘ ہے اور خطے میں اس کے اتحادیوں اور تمام مسلم ممالک کو قرآن کریم کے اس فرمان پر عمل کرنا چاہیے جس میں مظلوموں کی حمایت کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو اس جارحانہ رویے سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔

رہبر انقلاب نے غزہ کے عوام کی ’’معجزاتی مزاحمت‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ آج نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ دنیا بھر کے تمام حریت پسند انسانوں کے لیے اولین ترجیح بن چکا ہے۔

انہوں نے اس موقع کو غنیمت جاننے اور مظلوم فلسطینی عوام کی فوری مدد پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے علما، دانشوروں اور بااثر شخصیات پر زور دیا کہ وہ عوام میں مسئلہ فلسطین سے متعلق شعور و حساسیت پیدا کریں۔

مکمل پیغام کا اردو ترجمہ:

بسم الله الرحمن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کی بہترین مخلوق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، آپ کے پاکیزہ اہل بیت، برگزیدہ صحابہ کرام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

حج، مؤمن کی آرزو، شوق رکھنے والوں کا عید، اور خوش نصیبوں کی روحانی غذا ہے۔ اگر اس میں اس کے باطنی حقائق کی معرفت شامل ہو، تو یہ نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کے بڑے امراض کا علاج بن جاتا ہے۔

حج کوئی ایسا سفر نہیں جو تجارت، سیاحت یا دیگر اغراض کے لیے ہو اور جس میں عبادات محض ضمناً شامل ہوں۔

یہ زندگی کے عام سانچوں سے نکل کر ایک اعلیٰ، توحیدی طرزِ حیات کی جانب ہجرت کی تیاری ہے، ایک ایسی زندگی جس میں مسلسل اللہ کے محور (کعبہ) کا طواف ہو، صفا و مروہ کی مسلسل سعی، شیطانِ رجیم پر مسلسل کنکریاں برسانا، وقوفِ عرفات میں ذکر و دعا، مسافروں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا، اور رنگ و نسل، زبان و جغرافیہ کے تمام اختلافات سے ماورا مساوات کا عملی مشاہدہ۔

یہ وہ دائمی عناصر ہیں جن پر حج کی روح قائم ہے۔

حج اپنے اندر زندگی کے ان روحانی نمونوں کو سمیٹے ہوئے ہے، زائر کو ان سے آشنا کرتا ہے، اور انہیں عملی زندگی میں بروئے کار لانے کی دعوت دیتا ہے۔

اس دعوت کو قبول کیا جانا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دل و نگاہ کھولے، ظاہر و باطن کو سمجھے، سیکھے، اور ان اسباق پر عمل پیرا ہونے کا عزم کرے۔

ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس راستے پر قدم رکھ سکتا ہے، لیکن علما، مفکرین، اربابِ اقتدار اور بااثر افراد پر اس راستے کی ذمہ داریاں دوسروں سے کہیں زیادہ ہیں۔

آج اسلامی دنیا کو ان تعلیمات پر عمل کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہ مسلسل دوسرا حج ہے جو غزہ اور مغربی ایشیا میں جاری ہولناک تباہیوں کے سائے میں ادا کیا جا رہا ہے۔ صیہونی مجرم گروہ نے فلسطین پر اپنے ناجائز قبضے کے دوران غزہ کے المیے کو بے مثال ظلم و بربریت سے ناقابل یقین حد تک پہنچا دیا ہے۔

آج فلسطینی بچوں کو بموں، گولیوں اور میزائلوں کے ساتھ ساتھ پیاس اور بھوک سے بھی قتل کیا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان خاندانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کے نوجوان، والدین یا عزیز اس ظلم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس انسانی المیے کے خلاف کون کھڑا ہوگا؟

یقیناً، اسلامی حکومتیں سب سے پہلے اس فریضے کی ادائیگی کی ذمہ دار ہیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی حکومتوں سے اس پر اقدام کا پُرزور مطالبہ کریں۔

اگرچہ مسلمان حکومتوں کے درمیان مختلف سیاسی مسائل پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن غزہ کے اس اندوہناک سانحے کے حوالے سے انہیں اتحاد و تعاون سے باز نہیں آنا چاہیے۔ انہیں دنیا کے سب سے مظلوم قوم کا دفاع کرنا ہوگا۔

مسلمان حکومتوں کو صیہونی حکومت کو دی جانے والی ہر قسم کی امداد کے تمام راستے بند کرنے چاہئیں اور اس کے مجرمانہ ہاتھوں کو مزید ظلم سے روکنا ہوگا۔

امریکہ، صیہونی حکومت کے جرائم میں یقینی طور پر شریک ہے۔ خطے میں اس کے حواریوں اور دیگر مسلم ممالک کو قرآن کے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے جو مظلوموں کی حمایت کا حکم دیتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اس متکبر حکومت کو اس جارحانہ روش سے باز رکھنے پر مجبور کریں۔ حج کے دوران ادا کیا جانے والا "برائت از مشرکین” اسی سمت میں ایک عملی قدم ہے۔

غزہ کے عوام کی معجزانہ مزاحمت نے فلسطین کے مسئلے کو اسلامی دنیا اور دنیا بھر کے تمام آزادی پسند انسانوں کی اولین ترجیح بنا دیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس مظلوم قوم کی امداد کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔

اگرچہ استکباری قوتیں اور صیہونی حکومت کے حامی فلسطین کے نام و نشان کو مٹانے کے درپے رہے ہیں، لیکن صیہونی قیادت کی سفاکیت اور ان کی نادان پالیسیوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ آج فلسطین کا نام پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے اور دنیا بھر میں صیہونیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف نفرت کی لہر شدید تر ہو چکی ہے۔ یہ اسلامی دنیا کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

عوامی خطبا اور بااثر شخصیات کو چاہیے کہ وہ عوام میں مسئلہ فلسطین سے متعلق شعور و حساسیت بیدار کریں اور اس حوالے سے مطالبات کو بھرپور انداز میں بلند کریں۔

اور آپ، خوش نصیب حاجیو! حج کے دوران دعا، مناجات اور نصرتِ الٰہی کی طلب کے اس بابرکت موقع سے غافل نہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ سے صیہونی ظلم کے خاتمے اور اس کے حامیوں کے خلاف فتح کی دعا کریں۔

اللہ کا درود و سلام ہو نبی اکرم ﷺ، آپ کے پاکیزہ اہل بیتؑ اور حضرت بقیۃ اللہ (عج) پر، اور اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید علی خامنہ ای
3 ذو الحجہ 1446ھ
مطابق 30 مئی 2025ء

مقبول مضامین

مقبول مضامین