ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چار ججوں پر پابندیاں عائد کر دیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے اعلان پر عمل کرتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے چار ججوں پر پابندیاں لگا دی ہیں، جن پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف "غیر قانونی اور بے بنیاد اقدامات” کرنے کا الزام ہے۔
جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک سخت بیان میں ان پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا:
"ICC سیاسی ہو چکی ہے اور جھوٹے دعووں کی بنیاد پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے شہریوں کے خلاف تحقیقات کا اختیار استعمال کر رہی ہے، جو ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے۔”
جن ججوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان میں شامل ہیں:
سولومی بالُنگی بوسا (یوگنڈا)
لوز ڈیل کارمن ایبانیز کارانزا (پیرو)
رین ایڈیلیڈ سوفی الاپینی گانسو (بینن)
بیٹی ہوہلر (سلووینیا)
ان ججوں کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی اداروں کو ان کے ساتھ مالی، تجارتی یا خدمات کے کسی بھی قسم کے لین دین سے روک دیا گیا ہے۔
ICC کا ردعمل:
بین الاقوامی عدالت نے فوری ردعمل میں ان پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:
"یہ اقدام عالمی انصاف کے ادارے کی خودمختاری پر حملہ ہے اور ان افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے جو تنازعات میں پھنسے عام شہریوں کے لیے انصاف کی کوشش کر رہے ہیں۔”
پابندیوں کی وجوہات:
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق:
بوسا اور کارانزا کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت دینے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
الاپینی گانسو اور ہوہلر کو اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے پر پابندی کا سامنا ہے، جن میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گالانٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ شامل ہیں۔
پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے؟
جی ہاں، یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ICC کے خلاف اقدامات کیے ہوں۔
2020 میں ٹرمپ نے ICC کی اُس وقت کی پراسیکیوٹر فاتو بینسودا اور ایک اور افسر پر پابندیاں لگائی تھیں، جو بعد میں صدر جو بائیڈن کے دور میں ہٹا دی گئیں۔
2024 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے ICC کی کسی بھی تفتیش میں شریک افراد کو نشانہ بنانے کے لیے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا۔
اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی جانب سے سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ICC کی خودمختاری کو کمزور کرنے اور عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
تجزیہ:
امریکہ اور اسرائیل دونوں ICC کے رکن نہیں ہیں، لیکن افغانستان اور فلسطین جیسے ممالک عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جہاں مبینہ جرائم کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ان تحقیقات کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہیں، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں احتساب سے بچنے کی کوشش ہیں۔

