جنوب مشرقی ایشیا میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات اور چین، آسیان (ASEAN) اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے درمیان نئی سہ فریقی شراکت داری کے قیام پر روشنی
مئی کے آخری ہفتے میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں چین، آسیان، اور جی سی سی کے درمیان پہلا سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جو ایشیا کی جغرافیائی سیاست کو بدلنے کی بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس اس وقت ہوا جب چین، امریکہ، اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت شدت اختیار کر چکی ہے۔
چین نے اپنی معاشی اور سفارتی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے آسیان اور جی سی سی کے ساتھ تجارتی اور تکنیکی تعلقات بڑھائے ہیں، اور ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ جیسے منصوبوں کے ذریعے خطے میں اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ چین کا مقصد ایک “بڑی تکون” (big triangle) بنانا ہے جو دنیا میں امن اور ترقی کا ستون بن سکے۔
اس اجلاس میں چین نے آسیان-چین آزاد تجارتی معاہدے کو جی سی سی تک وسعت دینے کی تجویز دی، جسے آسیان نے خوش آئند قرار دیا۔ تعاون میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، اور 5G ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل کیے گئے، تاکہ سیاسی تنازعات سے گریز کرتے ہوئے اقتصادی مفادات پر توجہ دی جا سکے۔
تاہم، چین کے خطے میں بڑھتے اثر و رسوخ کے باوجود، متعدد رکاوٹیں باقی ہیں:
- جنوبی چین کے سمندر میں سرحدی تنازعات
- امریکی مخالفت، خاص طور پر حساس ٹیکنالوجیز پر
- بعض آسیان ممالک کی چین سے بڑھتی بے اعتمادی
- اور امریکہ کی پرانی سیکیورٹی وابستگیاں، خصوصاً جی سی سی کے ساتھ
امریکہ اب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ممالک چین کے ساتھ تعاون محدود رکھیں، لیکن آسیان اور جی سی سی اب زیادہ متوازن خارجہ پالیسی اپنا رہے ہیں۔ ان کا مقصد کسی ایک طاقت پر انحصار کے بجائے تنوع اور خود مختاری کو فروغ دینا ہے۔
اہم سوالات باقی ہیں:
کیا آسیان اس سہ فریقی نظام کو قائم رکھ سکے گا؟
کیا یہ ممالک چین اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھ پائیں گے؟
اور کیا یہ تعاون عسکری بلاکوں سے بچ کر صرف اقتصادی بنیادوں پر قائم رہ سکے گا؟
یہ سوالات وقت کے ساتھ ہی واضح ہوں گے، لیکن یہ ضرور ہے کہ دنیا ایک نئے کثیر قطبی نظام (multipolar world order) کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں جنوب-جنوب تعاون (South-South cooperation) کا کردار روز بروز اہم ہوتا جا رہا ہے۔

