چین کا امریکہ پر تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
چین نے امریکہ پر حالیہ تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن کی "نقصان دہ پابندیاں” اور "زبردستی” چین سے بات چیت کا درست طریقہ نہیں ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے منگل کو ایک بریفنگ میں کہا کہ چین نے 12 مئی کو جنیوا میں طے پانے والے معاہدے پر "ذمہ داری اور دیانتداری سے عمل کیا ہے”، جبکہ امریکہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات "بے بنیاد” ہیں۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے چِپ برآمدات پر کنٹرول، الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (EDA) سافٹ ویئر کی فروخت پر پابندی، اور چینی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کے اقدامات کو "انتہائی نقصان دہ” قرار دیا۔
چین نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ "جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا” بند کرے اور تجارتی معاملات کو سیاسی دباؤ سے متاثر نہ کرے۔
دونوں ممالک نے جنیوا معاہدے کے تحت اپریل کے بعد عائد کردہ نئی محصولات کو معطل کرنے اور کچھ نرم اقدامات پر اتفاق کیا تھا، لیکن امریکہ نے بعد ازاں الزام عائد کیا کہ چین نے اپنی کچھ غیر محصولاتی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں۔
ادھر، امریکہ نے 164 چینی مصنوعات پر عائد محصولات میں اگست 31 تک عارضی چھوٹ دے دی ہے، جن میں سیمی کنڈکٹرز، ٹیلی کام آلات، ہوابازی کے پرزے، اور طبی آلات شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ "ممکنہ طور پر اسی ہفتے” بات کریں گے، لیکن چینی ترجمان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

