ڈونلڈ ٹرمپ کا 12 ممالک پر مکمل سفری پابندی کا اعلان، 7 ممالک کے شہریوں پر سخت پابندیاں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے 12 ممالک کے شہریوں پر مکمل سفری پابندی اور 7 دیگر ممالک کے افراد پر سخت ویزہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔
مکمل سفری پابندی والے ممالک:
,افغانستان,چاڈ.کانگو,استوائی گنی,اریٹیریا,ہیٹی,ایران,لیبیا,میانمار,صومالیہ,سوڈان اور یمن
سخت پابندی والے ممالک:برونڈی,کیوبا,لاؤس,سیرالیون,ٹوگوترکمانستان,وینزویلا
نفاذ کی تاریخ:
یہ پابندیاں پیر، 9 جون 2025 کی صبح 12:01 بجے (واشنگٹن ڈی سی وقت) سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس تاریخ سے پہلے جاری کردہ ویزے منسوخ نہیں ہوں گے۔
ٹرمپ کا بیان:
صدر ٹرمپ نے کہا:
“مجھے امریکی قوم کے تحفظ کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔ ہم ایسے افراد کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے سکتے جنہیں ہم محفوظ طریقے سے جانچ نہیں سکتے۔”
انہوں نے کہا کہ کولوراڈو کے شہر بولڈر میں ایک حالیہ * pro-Israel ریلی* پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناقص اسکریننگ والے غیر ملکی شہری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل:
افریقی یونین کمیشن نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیمی تبادلے، تجارتی روابط اور سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ کمیشن نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک مشاورتی اور باہمی احترام پر مبنی حکمت عملی اختیار کرے۔
پس منظر:
یہ اقدام 2017 میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں جاری کردہ "مسلم بین” سے مشابہ ہے، جس میں ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن شامل تھے۔ بعد ازاں قانونی چیلنجز کے بعد اس پابندی میں ترامیم کی گئیں، اور 2018 میں سپریم کورٹ نے ایک ترمیم شدہ ورژن کو برقرار رکھا۔
اگر آپ ان متاثرہ ممالک میں سے کسی کے شہری ہیں اور امریکہ سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو مزید معلومات یا مشورہ درکار ہو تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طلباء پر پابندی کی تیاری
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے، جس کے تحت ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم یا پروگرامز کے لیے آنے والے غیر ملکی طلباء کے داخلے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ہارورڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ ادارہ "غیر ملکی تعلقات اور انتہا پسندی کی ایک تشویشناک تاریخ” رکھتا ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کے اہم نکات:
- امریکی محکمہ خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان غیر ملکی طلباء کے ویزے منسوخ کرنے پر غور کرے جو "اس اعلامیے کے معیار پر پورا اترتے ہوں”۔
- اس پابندی کا اطلاق نہ صرف نئے درخواست گزاروں پر ہو گا بلکہ موجودہ طلباء پر بھی ممکنہ طور پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
سخت ویزہ جانچ:
رائٹرز کے مطابق، پچھلے مہینے امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تمام بین الاقوامی قونصل خانوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہارورڈ آنے والے تمام ویزہ درخواست گزاروں کی اضافی جانچ پڑتال کریں۔
ہارورڈ کا ردعمل:
ہارورڈ یونیورسٹی نے ان اقدامات کو صدر ٹرمپ کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق، یہ سب اس وقت شروع ہوا جب اس نے ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے اسکول کی نظامت، نصاب، اور فیکلٹی و طلباء کی نظریاتی سمت کو کنٹرول کرنے کے مطالبات ماننے سے انکار کیا۔
فنڈز اور حیثیت پر اثرات:
- حکومت پہلے ہی ہارورڈ کے لیے اربوں ڈالر کے گرانٹس اور دیگر مالی امداد کو منجمد کر چکی ہے۔
- یونیورسٹی کی ٹیکس سے مستثنیٰ حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔
- یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ آیا یونیورسٹی نے سفید، ایشیائی، مرد یا سیدھے جنسی رجحان رکھنے والے امیدواروں سے امتیاز برتا۔
قانونی موڑ:
گزشتہ ماہ، حکومت نے ہارورڈ کی غیر ملکی طلباء کے اندراج کی اجازت منسوخ کر دی تھی، تاہم ایک وفاقی عدالت (بوسٹن) نے اس اقدام کو روک دیا تھا۔ اب، ٹرمپ نے اپنے نئے حکم میں ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کیا ہے، جس کی رپورٹ ایسوسی ایٹڈ پریس نے دی ہے۔
یہ اقدامات نہ صرف امریکی تعلیمی اداروں میں غیر ملکی طلباء کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی علمی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس پابندی سے متاثر ہو سکتے ہیں، تو مکمل معلومات حاصل کرنا اور مشورہ لینا نہایت اہم ہے۔

