منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیپنجشیر کی چیریاں روس اور وسطی ایشیا برآمد کی جائیں گی

پنجشیر کی چیریاں روس اور وسطی ایشیا برآمد کی جائیں گی
پ

پنجشیر سے 100 ٹن چیری روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کی جائے گی

پنجشیر کی چیری، سیب اور انگور اب وسطی ایشیا اور روس کو برآمد کیے جائیں گے

پنجشیر کے مقامی حکام کے مطابق، ازبکستان اور کرغزستان کے تاجروں نے نہ صرف چیری خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے بلکہ سیب اور انگور بھی خرید کر وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

اس سے پہلے پنجشیر اور دیگر صوبوں کی چیری بھارت اور پاکستان کو برآمد کی جاتی تھی، لیکن مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مختلف وجوہات کی بنا پر یہ برآمدات معطل کر دی گئی ہیں۔

گورنر پنجشیر محمد آغا حکیم نے کہا:

"پنجشیر سے وسطی ایشیا کو چیری کی برآمد کا آغاز ہو چکا ہے، جو کہ نہ صرف باغبانوں کے لیے بلکہ پورے افغانستان کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ اگر ایک برآمدی راستہ بند ہو جائے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔”

امین الحق مسوری، سربراہ صنعت و تجارت پنجشیر، نے بتایا:

"گزشتہ سال چیری بھارت کو برآمد کی گئی تھی، مگر اس سال بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے برآمدی منڈی سست ہو گئی ہے۔ پنجشیر کے سیب، خوبانی اور انگور بھی اعلیٰ معیار کے حامل ہیں۔”

ازبکستان اور کرغزستان کے دو تاجروں نے افغانستان کا دورہ کیا اور پنجشیر کے حکام سے ملاقات میں بتایا کہ وہ تقریباً 100 ٹن چیری خرید کر روس اور وسطی ایشیا کو برآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چیری کے ساتھ ساتھ سیب، انگور اور انار بھی خریدیں گے۔

حاجی زاہد،نے کہا:

"ہم صرف پنجشیر کی چیری ہی نہیں، بلکہ اس کے انگور، سیب اور ممکنہ طور پر انار بھی خرید کر ازبکستان، کرغزستان اور خاص طور پر ماسکو کو برآمد کریں گے۔”

عدلی، ازبک تاجر، نے کہا:

"میں پہلے بھی افغانستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت کر چکا ہوں جس کے اچھے نتائج ملے۔ ہم سابق سوویت ریاستوں کے تاجروں کو افغانستان میں خاص طور پر خشک میوہ جات کی تجارت کی طرف راغب کریں گے۔”

عبدالباسط، پنجشیر کے ایک رہائشی، نے کہا:

"پہلے چیری کی قیمت زیادہ نہیں تھی، لیکن اب غیر ملکی خریدار آ رہے ہیں اور چیری کو افغانستان سے باہر برآمد کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں بہتری آئی ہے۔”

مقامی حکام کے مطابق، گزشتہ سال پنجشیر کے کچھ باغبانوں نے صرف چیری کی فروخت سے 36 کروڑ افغانی سے زائد آمدنی حاصل کی تھی۔

یہ نئی تجارتی راہیں نہ صرف افغانستان کی معیشت کے لیے امید کی کرن ہیں بلکہ زمینداروں اور باغبانوں کے لیے ایک نیا اقتصادی موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین