منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانحکومت کا شمسی نیٹ میٹرنگ قوانین سخت کرنے کا فیصلہ

حکومت کا شمسی نیٹ میٹرنگ قوانین سخت کرنے کا فیصلہ
ح

ڈسکوز نیٹ میٹرنگ صارفین کو فی یونٹ 27 روپے کے بجائے صرف 10 روپے ادا کریں گی

دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد:
حکومت نے شمسی نیٹ میٹرنگ کے صارفین کے لیے قواعد مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل ایسی ہی ایک کوشش عوامی دباؤ پر وزیراعظم شہباز شریف نے روک دی تھی۔

نئے مجوزہ منصوبے کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کو دی جانے والی "زیرو بل” کی سہولت ختم کر دی جائے گی اور بجلی کی منظور شدہ لوڈ کی حد 1.5 گنا سے کم کر کے 1.0 گنا کر دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو لیتھیئم بیٹریوں پر مشتمل ہائبرڈ سولر سسٹمز کی طرف جانا ہوگا۔

اس وقت نیٹ میٹرنگ نظام کے تحت صارفین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو فی یونٹ 27 روپے کی قیمت پر اضافی بجلی فروخت کرتے ہیں۔ تاہم، نئے منصوبے کے مطابق حکومت اس نظام کو ختم کرنا چاہتی ہے اور نیٹ میٹرنگ رکھنے والے گھریلو سولر صارفین کو ڈسکوز صرف 10 روپے فی یونٹ ادا کریں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ہر سال لیتھیئم بیٹریوں کی درآمد پر ایک ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

یہ مجوزہ اقدامات ایک اجلاس میں زیر بحث آئے جس کی صدارت وفاقی وزیر توانائی نے کی۔ اجلاس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز اور پاور ڈویژن کے حکام شریک تھے۔

پاور ڈویژن نے جن اصلاحات کی تجویز دی ہے، ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ کا موجودہ تصور ختم کر کے "نیٹ بلنگ” کا نیا ماڈل متعارف کروایا جائے گا، جس میں یونٹ کی خرید و فروخت نہیں ہوگی، بلکہ صارفین کو صرف نقد ادائیگی کی جائے گی۔

اس تبدیلی کے تحت، موجودہ سہ ماہی بلنگ کی سہولت ختم کر کے اضافی بجلی پر ماہانہ بنیادوں پر نقد ادائیگی کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم، صارفین کی درجہ بندی (کمرشل، گھریلو وغیرہ) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور تمام اقسام کے صارفین نئی پالیسی سے استفادہ کر سکیں گے۔

نیز، نیٹ میٹرنگ کے لائسنس کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے وضاحت کی ہے کہ حکومت نیٹ میٹرنگ پالیسی کو ختم نہیں کر رہی بلکہ اس کے موجودہ میکنزم کو مزید مؤثر، شفاف اور پائیدار بنانے پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2017-18 میں جب نیٹ میٹرنگ متعارف ہوئی تھی تو وہ خود اس عمل کا حصہ تھے، اور تب یہ نظام ابتدائی مراحل میں تھا۔ ان کے مطابق، اب اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہو چکا ہے اور یہ قومی گرڈ پر منفی اثر ڈال رہا ہے جسے بروقت درست کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کسی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ تمام فیصلے قومی مفاد اور توانائی کے نظام کے طویل المدتی استحکام کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یونٹس کی خریداری کی بات ہو تو یہ بھی زیر غور ہے کہ اسے "انرجی پرچیز پرائس” کے ساتھ منسلک کر دیا جائے، تاکہ نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ خودکار توازن پیدا ہو۔

وزیر توانائی کے مطابق، اگر کسی صارف کا سرمایہ تین سال میں واپس آ رہا ہے، تو یہ سرمایہ کاری کے لحاظ سے قابل قبول ماڈل ہے۔ "اگر صارف اپنی پیدا کردہ بجلی کا 40 فیصد خود استعمال کر رہا ہے، تو تین سال میں واپسی ایک مناسب شرح ہے۔ یہ اصلاحات کسی طرح کی رکاوٹ نہیں بلکہ نظام کو متوازن، بہتر اور پائیدار بنانے کی سمت ایک قدم ہیں۔”

انہوں نے اجلاس کے دوران توانائی کے جاری اصلاحاتی منصوبے کا خاکہ پیش کیا، جس کے تحت حکومت نے 9,000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیرضروری منصوبوں کو ختم کر دیا ہے جو نظام پر بوجھ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیپٹو پاور صارفین پر لیوی عائد کر کے انہیں دوبارہ قومی گرڈ میں شامل کیا گیا، جس سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔ جون 2024 سے صنعتی شعبے کو دی جانے والی کراس سبسڈی کا حجم 174 ارب روپے ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی نرخوں میں 31 فیصد کمی آئی اور صنعتی بجلی کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین