تہران کے شمالی پہاڑوں میں واقع ایک پرسکون گاؤں "جماران” کی ایک چھوٹی سی مسجد میں، امام خمینی نرمی اور ٹھہراؤ سے گفتگو فرمایا کرتے تھے، لیکن ان کے الفاظ اتنے مؤثر ہوتے کہ ہر سننے والا ہمہ تن گوش ہو جاتا۔
ان کی شخصیت میں ایک ناقابلِ انکار کشش تھی۔ جنہوں نے ان کی موجودگی کا تجربہ کیا، وہ اکثر ایک خاص ہیبت اور روحانی وقار کا ذکر کرتے — صرف ان کے الفاظ کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے پر اعتماد اور باوقار انداز کی وجہ سے۔
اگرچہ ان کا اندازِ گفتگو نرم تھا، مگر ان کے الفاظ دنیا بھر میں گونجتے، دلوں کو جھنجھوڑتے، ظالموں کو بےچین کرتے اور مظلوم اقوام میں سوئی ہوئی مزاحمت کی روح کو جگا دیتے۔
امام خمینی کا نام نسلوں اور قوموں میں گہرے اثرات کا حامل رہا۔ ان کے پیروکاروں کے لیے وہ صرف ایک رہبر نہیں بلکہ ایک باپ کی مانند اور عالمی مزاحمتی روح کے معمار تھے۔
لبنان سے لے کر عراق، فلسطین سے نائیجیریا تک، امام خمینی کا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے — ایک ایسی مزاحمتی سوچ کی صورت میں جو ظلم، قبضے اور سامراجی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہے۔
ان کی فکر کا مرکزی نکتہ مستضعفین (مظلوموں) کی حمایت اور مستکبرین (تکبر کرنے والی طاقتوں) کی مخالفت تھا۔
یہ وژن آج بھی دنیا بھر کی مزاحمتی تحریکوں کو ہمت، عزم اور آزادی کی جدوجہد میں حوصلہ دیتا ہے — تاکہ وہ عالمی استبداد کے خلاف کھڑے ہو سکیں اور اپنی عزت اور حقِ خود ارادیت کا دفاع کر سکیں۔
رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں امام خمینی کی مزاحمتی میراث
اسلامی انقلاب کے عظیم بانی امام خمینی کے شایانِ شان جانشین، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ اپنے مرشد کی سیاسی میراث میں غیر متزلزل مزاحمت کے اصول کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
امام خمینی کی رحلت کی 30ویں برسی کے موقع پر 2019 میں ایک یادگاری خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا:
"مزاحمت کا مطلب یہ ہے کہ انسان درست راستے کا انتخاب کرے، صحیح سمت میں قدم رکھے اور اس راستے میں آنے والی رکاوٹیں اسے روک نہ سکیں۔ امام خمینی ایسے ہی تھے۔ انہوں نے ایک راستہ منتخب کیا تھا اور اس پر ثابت قدمی سے چلتے رہے۔ مشکلات، رکاوٹوں اور ظالمانہ نظاموں کے باوجود امام نے پوری دنیا کے سامنے اپنی مزاحمتی قوت کا مظاہرہ کیا۔”
آیت اللہ خامنہ ای نے وضاحت کی کہ امام خمینی کی مزاحمت جذباتی یا ردعمل پر مبن…
لبنان: محورِ مزاحمت کا سرچشمہ
امام خمینیؒ کی تابندہ میراث کے سب سے وفادار علمبرداروں میں سے ایک لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ ہے۔ اس تحریک کے رہنماؤں نے اسلامی انقلاب کے بانی کے ساتھ گہرا نظریاتی اور روحانی تعلق ہمیشہ ظاہر کیا ہے۔
۱۹۸۲ء کی گرمیوں میں جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، تو نئی تشکیل پانے والی لبنانی مزاحمتی صفوں کے نوجوان مجاہدین نے امام خمینیؒ کی آواز پر لبیک کہا۔ وہ اس یقین کامل کے ساتھ میدانِ عمل میں اترے کہ ظالم اور سامراجی قوتوں، خاص طور پر امریکہ کی پشت پناہی یافتہ دشمن کا مقابلہ صرف جہاد سے ممکن ہے۔
شہید فواد شکر، جو حزب اللہ کے اعلیٰ عسکری کمانڈر تھے، نے ایک انٹرویو میں مزاحمت کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا:
"جب صہیونی حملہ ختم ہوا اور اسرائیلی لاشیں اٹھائی جا رہی تھیں، تب صحافی علاقے میں آئے۔ انہوں نے ہم سے پوچھا، ‘تم لوگ کو…
فلسطین: القدس کی آزادی کا عہد
۱۹۶۸ء میں، اسلامی انقلاب سے بھی کئی سال قبل، امام خمینیؒ فلسطینی کاز سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ ایک معتبر دینی رہنما کی حیثیت سے آپ نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنا خمس اور زکوٰۃ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں صرف کریں۔
سید حسن نصر اللہ کے مطابق، امام خمینی فلسطین کے مسئلے پر کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔ وہ ہمیشہ اس بات کے حامی رہے کہ مقبوضہ فلسطین کے ہر انچ کو آزاد کرایا جائے اور "اس غاصب و ناجائز صہیونی حکومت کو ختم کیا جائے۔”
سید نصر اللہ نے ایک بار کہا:
"اسلامی انقلاب کی کامیابی نے نہ صرف خطے میں امیدوں کو تازہ کیا بلکہ مزاحمت کے حامیوں کے حوصلے اور عزم کو کئی گنا بڑھا دیا۔”
اسلامی انقلاب کے بعد، امام خمینیؒ نے فلسطینی کاز سے اپنی وابستگی کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی۔ آپ نے رمضان ا…
عراق میں مزاحمت کی تحریک: امام خمینیؒ سے الہام
عراق کی مزاحمتی تحریک کو اسلامی انقلاب ایران (1979) کے بعد امام خمینیؒ کے فکری ورثے سے گہرا الہام ملا۔ آپ کی اسلامی حکومت کے تصور اور ظلم کے خلاف غیر متزلزل موقف نے عراق میں بعثی آمریت اور بعد ازاں امریکی جارحیت کے خلاف مختلف مزاحمتی دھڑوں کو بیدار کیا۔
امام خمینیؒ نے مظلوموں کے دفاع اور اسلامی شناخت کے تحفظ پر جو زور دیا، وہ عراق کی مزاحمت کا نظریاتی ستون بنا۔ اسی نظریے نے 2003ء میں امریکی قبضے کے خلاف اور بعد ازاں داعش جیسی تکفیری دہشت گرد تنظیم کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
مہدی المہندس، عراق کی الحشد الشعبی (عوامی رضاکار فورس) کے شہید نائب سربراہ، نے ایک بار کہا تھا:
"امام خمینیؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اسلامی امت میں مزاحمت کی شمع روشن کی، اور ہم اُن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ظلم و جارحیت کا مقابلہ کرتے ہ…
یمن: مظلوموں کے لیے امید کی ایک کرن
یمن میں امام خمینیؒ کی تعلیمات انصاراللہ (حوثی) قیادت اور مجاہدین کے خطابات اور استقامت میں پوری شدت سے جھلکتی ہیں۔
انصاراللہ تحریک کے قائد سید عبدالملک الحوثی نے ہمیشہ اسلامی انقلاب ایران اور امام خمینیؒ کو مزاحمت کی روح کا منبع قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنی متعدد تقریروں میں امام خمینیؒ کے اصولوں کو یاد کیا ہے، جن میں آزادی، انصاف، اور امت مسلمہ کے مظلوموں کے درمیان اتحاد پر زور دیا گیا ہے۔
انصاراللہ کی قیادت اپنی جدوجہد کو 1979ء کے اسلامی انقلاب سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کا تسلسل قرار دیتی ہے۔
"امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب کا وہ حقیقی ماڈل پیش کیا جو امت کو متحد کرتا ہے۔ اُن کی ثقافت آج بھی ہماری عالمی استعمار کے خلاف جدوجہد کی بنیاد ہے،” عبدالملک الحوثی نے ایک خطاب میں فرمایا۔
وہ اسلامی انقلاب کو ایک تاریخی نق…
نائجیریا: افریقہ میں اسلامی انقلاب کی گونج
مغربی ایشیا سے بہت دور، افریقی ملک نائجیریا میں بھی 1979ء کے اسلامی انقلاب ایران کے بعد خاموشی سے ایک نئی بیداری نے جنم لیا۔
1980 کی دہائی کے اوائل میں شیخ ابراہیم زکزاکی، جو نائجیریا کے شمالی شہر زاریا کے ایک نوجوان عالم دین تھے، نے امام خمینیؒ کی تحریریں پڑھیں — جنہوں نے ان کے دل میں انقلابی روح کو بیدار کر دیا۔
"امام خمینیؒ کی روشنی نائجیریا تک پہنچ چکی ہے،” زکزاکی نے بعد میں کہا۔
"ان کا انقلاب ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔”
امام خمینیؒ سے متاثر ہو کر، زکزاکی نے اسلامی تحریک نائجیریا (IMN) کی بنیاد رکھی، جو ملک میں ظالمانہ ریاستی نظام کے خلاف ڈٹ گئی۔
زکزاکی کو بارہا قید کیا گیا، ان کے سینکڑوں پیروکار شہید کیے گئے، ان کے بیٹے بھی ظلم کا نشانہ بنے، لیکن وہ امام خمینیؒ کے سکھائے ہوئے اصولوں پر ثا…

