ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران لبنان کے ساتھ طویل المدتی تعلقات میں ایک "نیا باب” کھولنے کا خواہاں ہے — ایسے تعلقات جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہوں۔
بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر عربی زبان میں شائع کردہ پیغام میں عراقچی نے لکھا:
"مجھے ایک بار پھر خوبصورت بیروت واپس آ کر خوشی ہوئی۔ صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے دوران میں نے لبنان کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تعمیر نو کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا، خاص طور پر اسرائیلی قبضے کے تسلسل کے پیش نظر۔”
انہوں نے زور دے کر کہا:
"ہمارا مقصد اور امید ہے کہ ہم اپنے صدیوں پر محیط تعلقات میں ایک نیا باب کھولیں، جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔”
ملاقاتوں کی تفصیلات:
منگل کو بیروت میں ہونے والی ملاقات میں، عراقچی نے لبنان کی حکومت کو تعمیر نو کے عمل میں مدد دینے کے لیے تہران کی آمادگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات اور تازہ ترین علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقچی نے کہا کہ ایران تمام شعبوں میں لبنان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے تیار ہے، اور یہ تعاون باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی کمپنیاں لبنان کی تعمیر نو میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔
لبنان کا ردعمل:
صدر جوزف عون نے ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ لبنان کی پالیسی تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوستانہ تعلقات کو بڑھانے کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔
یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت ہو رہی ہے جب لبنان کو اسرائیلی جارحیت، معاشی بحران، اور اندرونی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ایران خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

