یمنی وزیر دفاع کا اسرائیل کو انتباہ: مکمل جنگی تیاری، فضائی و بحری ناکہ بندی مزید سخت کرنے کا عندیہ
یمن کے وزیر دفاع میجر جنرل محمد ناصر العاطفی نے اعلان کیا ہے کہ یمنی مسلح افواج اسرائیلی دشمن کے خلاف کسی بھی ممکنہ شدت اختیار کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں، بشرطیکہ قیادت کی جانب سے ہدایت جاری کی جائے۔
ہمہ وقت حملے کی صلاحیت
منگل کے روز کابینہ کو جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں وزیر دفاع نے بتایا کہ:
"یمنی افواج کے پاس اسٹریٹیجک پیش قدمی اور بھرپور دفاعی صلاحیت موجود ہے، جو انہیں ہر حال میں دن رات میزائل اور ڈرون حملے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ حملے اسرائیل کے اندر گہرائی میں موجود اہم، حساس اور تزویراتی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔”
عسکری طاقت میں نمایاں اضافہ
طویل عرصے سے جاری محاذ آرائی کے نتیجے میں یمنی افواج کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
یمن نے زیادہ فاصلے، بہتر درستگی، مضبوط اثر اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی حاصل کی ہے۔
وزیر دفاع نے غزہ اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی حمایت کو "عزت، غیرت اور قبلۂ اول کے دفاع کی جنگ” قرار دیا۔
بحری و فضائی جنگ کی نئی تاریخ
رپورٹ کے مطابق:
یمن نے امریکی جارحیت کو ناکام بنایا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری امریکی بحری برتری کا خاتمہ کیا۔
ہائپرسونک میزائل اور جدید ڈرونز کی بدولت یمن نے جدید جنگ کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔
کابینہ کی جانب سے خراج تحسین
یمنی کابینہ نے:
یمنی افواج کی معیاری اور مؤثر کارروائیوں کی بھرپور تعریف کی، خصوصاً راکٹ فورس اور ڈرون کور کی۔
بن گوریون ایئرپورٹ (لود) پر حملوں کو اہم دشمن انفراسٹرکچر کو مفلوج کرنے کی قابلِ قدر حکمت عملی قرار دیا۔
کابینہ نے واضح کیا کہ:
"دباؤ، دھمکیاں، مراعات یا ثالثی کا کوئی طریقہ یمنی قیادت، حکومت یا عوام کو فلسطین کے مظلوموں کی حمایت سے نہیں روک سکتا۔”
اسرائیل کو مزید نقصان کی وارننگ
یمنی حکومت نے خبردار کیا کہ:
اسرائیلی مظالم جاری رہے تو یمن کی جانب سے مزید شدید عسکری، اقتصادی اور سیاسی نقصان پہنچایا جائے گا۔`
یہ اقدامات اسرائیل کے اندرونی بحران اور مایوسی کو مزید گہرا کریں گے۔
فلسطینی بحران کی صورتحال
7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی جارحیت میں 54,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔
124,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
2 مارچ 2024 سے اسرائیل کی جانب سے امدادی ناکہ بندی کے بعد غزہ میں انسانی بحران بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
57 بچے بھوک اور غذائی قلت کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی تشویش
WHO اور IPC نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال جاری رہی تو اگلے 11 ماہ میں 71,000 سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ:
یمن کی عسکری قیادت کے واضح مؤقف اور اسرائیل کے خلاف مسلسل کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
یمن کی کارروائیاں نہ صرف فلسطینی مزاحمت کی اخلاقی و عملی پشت پناہی کا اظہار ہیں بلکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی ردِعمل کی نئی شکل بھی بن چکی ہیں.

