اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باقی 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا
دانشگاه ( نیوز ڈیسک) : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کے روز پیش کی گئی ایک قرارداد میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی” اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کی قائم مقام سفیر ڈوروتھی شییا نے ووٹنگ سے قبل کونسل سے خطاب میں کہا:
"امریکہ واضح کر چکا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جو حماس کی مذمت نہ کرے اور نہ ہی اس سے ہتھیار ڈالنے اور غزہ سے نکلنے کا مطالبہ کرے۔”
ان کا کہنا تھا کہ "یہ قرارداد زمینی حقائق کے مطابق جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور حماس کو حوصلہ دے گی۔”
سلامتی کونسل کے 15 میں سے باقی 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
اسرائیل پہلے ہی غیر مشروط یا مستقل جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کر چکا ہے، اور اس کا مؤقف ہے کہ حماس کا غزہ میں رہنا ناقابل قبول ہے۔ مارچ میں دو ماہ کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے اپنے فوجی حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں، جس کا مقصد حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کو بازیاب کرانا بھی بتایا جا رہا ہے۔
غزہ کے طبی حکام کے مطابق بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 45 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ اسرائیل نے ایک فوجی کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اس وقت 20 لاکھ سے زائد آبادی والے محصور علاقے غزہ کو انسانی بحران کا سامنا ہے، جہاں قحط کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے 11 ہفتوں بعد 19 مئی کو ناکہ بندی میں نرمی کے باوجود امداد کی فراہمی اب تک محدود ہے۔
بدھ کے روز امریکہ کے تعاون سے قائم کردہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کی جانب سے کوئی امداد تقسیم نہیں کی گئی۔ ادارے نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی نام نہاد "محفوظ تقسیم گاہوں” سے باہر بھی شہریوں کی سلامتی یقینی بنائے، جہاں حالیہ دنوں میں مہلک واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اسپتال حکام کے مطابق اتوار سے منگل کے دوران خوراک کے حصول کے لیے جمع ہونے والے افراد پر فائرنگ کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں منگل کے روز مارے گئے کم از کم 27 افراد بھی شامل ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ منگل کو علی الصبح خوراک کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی۔ تاہم اسرائیلی فوج نے الزام مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "مشکوک افراد” نے انتباہی فائرنگ کو نظرانداز کیا اور فوجی اہلکاروں کے قریب پہنچے، جس کے بعد اُن پر گولیاں چلائی گئیں۔
GHF کے ترجمان کا کہنا تھا :
"ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ امداد حاصل کرنے والے شہریوں کی سلامتی اور وقار کو یقینی بنایا جائے۔”

