منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی فریڈم فلوٹیلا کی دہائیوں پر...

غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی فریڈم فلوٹیلا کی دہائیوں پر محیط جدوجہد
غ

دلین غزہ کے لیے فریڈم فلوٹیلا کی پہلی کوشش نہیں ہے

فریڈم فلوٹیلا نے کئی مواقع پر غزہ کی جانب امداد پہنچانے کی کوشش کی ہے، تاکہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کردہ ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔ کارکنان اس ناکہ بندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور اسے ایک شدید انسانی بحران کا سبب گردانتے ہیں۔

مسلسل کوششیں، بار بار رکاوٹیں
2011، 2015، اور 2018 میں بھی فلوٹیلا کے بحری جہازوں کو اسرائیلی افواج نے روکا، تاہم ان رکاوٹوں کے باوجود فریڈم فلوٹیلا نے اپنی کوششیں جاری رکھیں، جن میں دنیا بھر سے امدادی سامان اور بین الاقوامی حمایت رکھنے والے کارکن شامل ہوتے ہیں۔

2010 کا خونریز واقعہ – ماوی مرمرہ
2010 میں، ماوی مرمرہ نامی جہاز پر متعدد کارکن سوار تھے جو اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں جہاز پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 9 کارکن شہید ہو گئے، جبکہ ایک اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا۔

2024 کی تازہ ترین کوشش – کونشس (Conscience) پر حملہ
فریڈم فلوٹیلا کی حالیہ کوشش 2024 میں سامنے آئی جب کونشس نامی مسافر بردار جہاز پر، جو ابھی غزہ روانہ ہونے کی تیاری کر رہا تھا، اسرائیلی ڈرونز نے بین الاقوامی پانیوں میں دو بار بمباری کی۔ منتظمین کے مطابق یہ حملے جان بوجھ کر کیے گئے تاکہ امدادی مشن کو روکا جا سکے۔

مقصد: عالمی قانون کا تحفظ اور ظلم کے خلاف آواز
منتظمین کا کہنا ہے کہ ان مشنز کا مقصد نہ صرف امداد پہنچانا ہے، بلکہ اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ "غیر قانونی اور نسل کش” ناکہ بندی کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانا اور بین الاقوامی قانون کا دفاع کرنا ہے۔

الجزیرہ کے صحافی جمال الشیال، جو ماوی مرمرہ پر موجود تھے، نے اس واقعے کی 10ویں برسی پر ایک تفصیلی مضمون بھی تحریر کیا، جو اس تاریخی حملے کی شدت اور اثرات کو اجاگر کرتا ہے

مقبول مضامین

مقبول مضامین